اسرائیلی فضائی حملے میں حماس مذاکرات کار خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی جاں بحق

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں خلیل الحیہ کے بیٹے عزام خلیل الحیہ جاں بحق ہوگئے۔ خلیل الحیہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اور اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں فلسطینی تنظیم کے اہم مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ شہر کے دراج محلے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں عزام خلیل الحیہ شدید زخمی ہوگئے تھے، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ غزہ کے الشفا اسپتال ذرائع نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیے: حماس کا ہتھیار پھینکنے سے انکار، اسرائیلی جنگ بندی پر عملدرآمد تک مذاکرات مسترد

طبی ذرائع کے مطابق حملے میں ایک اور فلسطینی بھی جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوئے۔ اسی روز غزہ کے مختلف علاقوں میں مزید دو اسرائیلی حملوں میں 4 فلسطینی مارے گئے جن میں غزہ پولیس کے ایک سینئر افسر بھی شامل تھے۔

خلیل الحیہ نے اپنے بیٹے کی شہادت کی تصدیق سے قبل کہا تھا، ‘ہم ایک جائز مقصد کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم ہیں، ہمارے بچوں اور رہنماؤں کی شہادت ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتی۔’

رپورٹس کے مطابق خلیل الحیہ اس سے قبل بھی اسرائیلی حملوں میں اپنے 3 بیٹے کھو چکے ہیں۔ دو بیٹے 2008 اور 2014 کی جنگوں میں مارے گئے تھے جبکہ ایک بیٹا گزشتہ برس دوحہ میں اسرائیلی کارروائی کے دوران جاں بحق ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان تنازع: فریقین بات چیت کا راستہ اختیار کریں، حماس کا مشورہ

حماس رہنما طاہر النونو نے حملے کو ‘اخلاقی پستی کی انتہا’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات فلسطینی قیادت کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp