ٹیسلا کا بیٹری پروڈکشن بڑھانے کا فیصلہ، 25 کروڑ ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

برلن: ایلون مسک کی ملکیت والی امریکی الیکٹرک وہیکل کمپنی ‘ٹیسلا’ نے جرمنی میں اپنے برلن پلانٹ کے باہر بیٹری سیل کی پیداوار کو وسعت دینے کے لیے تقریباً 25 کروڑ ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔

 اس نئی سرمایہ کاری کا مقصد بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرنا اور بیٹری سیل کی سالانہ پیداواری صلاحیت کو پہلے سے طے شدہ 8 گیگا واٹ آورز سے بڑھا کر 18 گیگا واٹ آورز تک پہنچانا ہے۔

ٹیسلا اس سے قبل دسمبر میں بھی اس مقام پر تقریباً 1 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکی ہے تاکہ اگلے سال سے بیٹری سیل اور گاڑیوں کی تیاری ایک ہی چھت کے نیچے ممکن بنائی جا سکے۔

ٹیسلا کے مطابق اس توسیعی منصوبے سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور بیٹری سیل پروڈکشن کے شعبے میں 1500 سے زائد ملازمین کی ضرورت ہوگی، جبکہ اس وقت کمپنی کے واحد یورپی گیگا فیکٹری ‘گرین ہائیڈ’ میں تقریباً 11 ہزار افراد کام کر رہے ہیں۔

کمپنی کا یہ اقدام یورپ میں بیٹری سپلائی چین کو مقامی بنانے کی صنعت کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ایشیائی سپلائرز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

اگرچہ ٹیسلا نے ماضی میں جرمنی میں بیٹری پروڈکشن کے کچھ منصوبے روک دیے تھے، لیکن بڑھتی ہوئی مانگ، ٹیرف اور یورپی صنعتی پالیسی کی حمایت نے اس پروجیکٹ کو دوبارہ فعال کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے