امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے اختتام پر اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس ترجمان کیرولین لیوٹ کے ہاں بچی کی پیدائش، نام کا بھی اعلان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اچانک ان کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق کیرولین لیویٹ عہدہ چھوڑنے کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں گی تاہم وہ ان کی اہم ترین بیرونی مشیران میں شامل رہیں گی اور وسط مدتی انتخابات کے دوران ری پبلکن پارٹی میں بھی ایک بااثر آواز کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گی۔
28 سالہ کیرولین لیویٹ ٹرمپ کی انتخابی مہم سے وائٹ ہاؤس تک ان کے ساتھ رہنے والی اہم شخصیات میں شامل رہی ہیں اور صدر کی پالیسیوں کے دفاع میں انتہائی وفادار ترجمان کے طور پر سامنے آئیں۔
بچوں کی پرورش کے لیے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ
کیرولین لیویٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے ماں بننا اور ایک نئے بچے کی پیدائش ان کی زندگی کا سب سے زیادہ خوش آئند لیکن مشکل دور رہا ہے۔
مزید پڑھیے: وائٹ ہاؤس ترجمان کیرولین لیوٹ کے ہاں بچی کی پیدائش، نام کا بھی اعلان
انہوں نے کہا کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد وائٹ ہاؤس واپس آنے پر انہیں مسلسل یہ احساس رہا کہ وہ اپنے دو کم عمر بچوں کے لیے بہترین ماں کا کردار ادا نہیں کر سکتی کیونکہ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کی ذمہ داری کے لیے مسلسل وقت، توانائی اور توجہ درکار ہوتی ہے۔
Serving as the White House Press Secretary over the past year and a half has been the honor and adventure of a lifetime. I am incredibly grateful to President Trump for granting me so many extraordinary opportunities, such as working in the West Wing and spending countless hours… https://t.co/4jyW61DGGh pic.twitter.com/xny1yccuBn
— Karoline Leavitt (@karolineleavitt) August 12, 2026
وائٹ ہاؤس سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا تو حکام نے کیرولین لیویٹ اور صدر ٹرمپ کے بیانات کی جانب توجہ دلائی۔
کم عمر ترین وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری
کیرولین لیویٹ نے وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں کم عمر ترین پریس سیکریٹری بن کر بھی توجہ حاصل کی۔
اپنے دور میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو متعدد تنازعات اور دوسرے دورِ صدارت کے اہم ترین معاملات پر میڈیا کے سامنے دفاع فراہم کیا جن میں سگنل گیٹ اسکینڈل، جیفری ایپسٹین فائلز کا اجرا اور ایران جنگ جیسے معاملات شامل تھے۔
عہدہ چھوڑنے کے اعلان کے ساتھ بھی لیویٹ نے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ امریکا کی عظمت سے جڑی ہر چیز کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
میڈیا پالیسی میں بھی اہم کردار
کیرولین لیویٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی میڈیا کوریج کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کی بھی حمایت کی تھی۔
انہوں نے گزشتہ سال ’ایکسیوس‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ انتظامیہ میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے بجائے اسے وسیع کرنا چاہتی ہے جس میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ’میگا‘ کے حامی آوازوں کو بھی وائٹ ہاؤس پریس کوریج میں شامل کرنا شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کا انتخاب براہ راست صدر کرتے ہیں اور اس عہدے کے لیے امریکی سینیٹ سے منظوری لینا ضروری نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا جو واحد ثالث ہے، وائٹ ہاؤس
صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں وائٹ ہاؤس کے 4 پریس سیکریٹری رہ چکے ہیں۔













