پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کی قسط موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اسے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 1.3 ارب ڈالر کی تازہ ترین قسط موصول ہوگئی ہے۔

 مرکزی بینک کے مطابق یہ رقم آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے 8 مئی کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کے تیسرے جائزے کی تکمیل اور منظوری کے بعد جاری کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی

اس قسط میں توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور لچک اور پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف) کے تحت 220 ملین ڈالر شامل ہیں۔

 اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز 15 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے سرکاری اعداد و شمار میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا حصہ بن جائیں گے۔

آئی ایم ایف کے اعلامیے میں جہاں پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کی تعریف کی گئی ہے، وہاں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات سے متعلق خبردار بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالر ملیں گے

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بیرونی صدمات سے بچنے کے لیے پاکستان کو اپنی مضبوط پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی رفتار کو تیز کرنا ہو گا۔

 آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیشِ نظر مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات کا عمل معیشت کو مزید کسی بحران سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے اپنی ششماہی رپورٹ میں معاشی استحکام میں بہتری کا اعتراف تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح، بیرونی تجارت اور ترسیلاتِ زر کے بہاؤ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ موجود ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی وارننگ، حکومت نے پیٹرول کا کروز میزائل داغ دیا، حقائق کیوں چھپائے گئے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے موصول ہونے والی یہ رقم عارضی طور پر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی، تاہم طویل مدتی استحکام کا دارومدار اندرونی اصلاحات کی کامیابی پر ہی منحصر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp