وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے پُرامن رہائی تحریک رضاکاروں کی رجسٹریشن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور قریباً 2 ماہ گزرنے کے باوجود نہ رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوا ہے اور نہ ہی اب تک رضاکاروں سے حلف لیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے ’عمران خان رہائی فورس‘ بنانے کا اعلان کیا تھا، اور عید الفطر کے فوراً بعد حلف لینے کا وعدہ بھی کیا تھا، تاہم پارٹی میں تنقید اور مخالفت کے بعد فورس کا نام تبدیل کرکے ’عمران خان امن رہائی موومنٹ‘ رکھ دیا گیا۔
مزید پڑھیں: ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟
27 مارچ کو پشاور میں سہیل آفریدی نے رجسٹریشن کا آغاز کیا اور خود کو بھی رضاکار کے طور پر رجسٹرڈ کیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دعویٰ تھا کہ 10 لاکھ رضاکاروں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا اور ان سے باقاعدہ حلف بھی لیا جائے گا، لیکن ابھی تک یہ صرف دعوؤں اور اعلانات تک محدود ہے، اور رجسٹریشن کا عمل کہیں بھی نظر نہیں آ رہا۔
امن موومنٹ رجسٹریشن کا عمل کہاں پہنچا؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 مارچ کو پشاور میں باقاعدہ ’عمران خان رہائی امن موومنٹ‘ رجسٹریشن کا افتتاح کیا تھا اور اس وقت اعلان کیا تھا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں کیمپس قائم کیے جائیں گے، جبکہ رجسٹریشن کے عمل کا ڈیش بورڈ ان کے سامنے آئے گا۔ اس کے ساتھ مرحلہ وار دیگر صوبوں تک اس کی توسیع کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ سہیل آفریدی نے اس وقت مردان اور نوشہرہ میں کیمپس کا دورہ بھی کیا تھا، لیکن اس کے بعد مکمل خاموشی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق عمران خان کی رہائی موومنٹ کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، تاہم اب تک کتنے رضاکار رجسٹرڈ ہوئے ہیں، اس حوالے سے کوئی واضح معلومات دستیاب نہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے مطابق امن رہائی مہم سہیل آفریدی کی نگرانی میں ہے، اور رجسٹریشن کے عمل کو ان کے قریبی ساتھی ہی دیکھ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی یوتھ رہنما اور سابق مشیر ڈاکٹر شفقت ایاز نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کتنی تعداد میں رجسٹریشن ہوئی ہے اور دیگر صوبوں کی کیا پوزیشن ہے، تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
انہوں نے مختصر جواب میں کہاکہ رجسٹریشن مکمل ہے اور جب بھی سہیل آفریدی کال دیں گے، سب فرنٹ لائن پر ہوں گے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کچھ دن پہلے ’وی نیوز‘ کو بتایا تھا کہ 10 لاکھ کا ہدف پورا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 50 ہزار رضاکار رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
کیا سہیل آفریدی کی عمران خان رہائی مہم دم توڑ رہی ہے؟
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کی رہائی کی تحریک جاری ہے اور پارٹی قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کررہی ہے، تاہم کارکنان قیادت سے خوش دکھائی نہیں دے رہے۔
سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید نے بھی اپنے حالیہ انٹرویو میں عمران خان کی رہائی کی کوششوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔
پارٹی کے ایک اہم رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت سہیل آفریدی کیمپ میں مکمل خاموشی ہے اور عملی طور پر زمین پر کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔
’یہ سہیل آفریدی کی ناکامی ہے کہ ابھی تک ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ فیملی کے ساتھ بھی رابطہ محدود ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی صرف بیانات کی حد تک کوشش کررہے ہیں، جبکہ عملی طور پر سیاسی مخالفین پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی شروع میں جذباتی تھے اور بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے، مگر اب لگ رہا ہے کہ ان کی رہائی مہم بھی کمزور پڑ رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان امن رہائی موومنٹ میں بھی کارکنان کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
ایک کارکن عدنان نے کہاکہ قائدین دعوے کررہے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہو رہا، جبکہ سینیئر رہنما یہ بتانے سے بھی قاصر ہیں کہ تحریک کہاں تک پہنچی ہے۔ ’ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی کیسے ممکن ہوگی، حل کیا ہے۔ ہم کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔‘
’پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار ہے‘
پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے مطابق اس وقت پارٹی میں شدید گروپنگ موجود ہے، اور صوبائی کابینہ میں وزارتوں کے لیے کھینچا تانی جاری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ سہیل آفریدی مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بار فہرستیں تیار کرنے کے باوجود کابینہ کی توسیع نہیں ہو سکی۔ مختلف گروپس اپنے اپنے افراد کو کابینہ میں شامل کرانا چاہتے ہیں، جبکہ سہیل آفریدی نے معاملہ عمران خان پر چھوڑ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس ہر صورت بنے گی، صحت سے متعلق فیصلے فیملی کرے گی، شفیع جان
انہوں نے مزید بتایا کہ منتخب اراکین اور صوبائی صدر سہیل آفریدی کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کررہے، اور جلسوں میں کارکنان کو بھی متحرک نہیں کیا جا رہا۔
ان کے مطابق رجسٹریشن مہم بھی ناکام ہو چکی ہے، اور سہیل آفریدی کے خلاف پارٹی کے اندر بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو کارکنان کا اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا جس کی وجہ سے پارٹی بھی مزید کمزور ہو سکتی ہے۔











