امریکا میں بدعنوانی کا مقدمہ: مودی کے ساتھی گوتم اڈانی کروڑوں ڈالر جرمانہ ادا کرکے جان چھڑانے پر مجبور

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ارب پتی صنعتکار گوتم اڈانی نے امریکا میں بدعنوانی سے متعلق ایک سول مقدمے میں کروڑوں ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اڈانی گروپ نے الزامات کو تسلیم یا مسترد کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی حکام نے اڈانی پر بھارتی حکام کو رشوت دے کر شمسی توانائی کے منافع بخش معاہدے حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

بھارتی ارب پتی صنعتکار اور اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے امریکا میں بدعنوانی سے متعلق زیرِ سماعت سول مقدمے میں ملین ڈالرز جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ ادائیگی الزامات کو تسلیم یا مسترد کیے بغیر کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2024 میں نیویارک میں دائر فردِ جرم میں گوتم اڈانی اور ان کے متعدد قریبی ساتھیوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو گمراہ کرتے ہوئے ایک بڑے رشوت اسکینڈل میں حصہ لیا۔

امریکی حکام کے مطابق اڈانی پر تقریباً 25 کروڑ ڈالر مالیت کی مبینہ اسکیم کے تحت بھارتی حکام کو شمسی توانائی کے منافع بخش معاہدے حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے کا الزام تھا۔

ممبئی اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے اڈانی گرین انرجی کے خط کے مطابق گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی نے مجموعی طور پر 18 ملین ڈالر سول جرمانہ ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا کہ یہ تصفیہ “سول شکایت میں لگائے گئے الزامات کو تسلیم یا مسترد کیے بغیر” کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں پابندی کے باوجود کارپوریٹ فنڈنگ میں اضافہ، بی جے پی سب سے بڑی بینیفیشری

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پراسیکیوٹرز اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات واپس لینے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اڈانی نے نئی قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کیں، جس کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل رابرٹ جیوفرا کر رہے ہیں۔

اڈانی گروپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کمپنی خود اس مقدمے میں فریق نہیں اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی باضابطہ الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ امریکی عدالت کے حتمی فیصلے کا ابھی انتظار ہے۔

واضح رہے کہ گوتم اڈانی کا کاروباری نیٹ ورک کوئلہ، ہوائی اڈے، سیمنٹ، توانائی اور میڈیا سمیت کئی شعبوں پر محیط ہے۔ حالیہ برسوں میں اڈانی گروپ کو کارپوریٹ فراڈ الزامات اور شیئرز کی قیمتوں میں شدید گراوٹ جیسے بحرانوں کا بھی سامنا رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے گوتم اڈانی کا تعلق بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد سے ہے۔

انہوں نے نوجوانی میں تعلیم چھوڑ کر ممبئی میں ہیرے اور جواہرات کی تجارت سے کاروباری سفر کا آغاز کیا، جبکہ 1988 میں انہوں نے اڈانی گروپ کی بنیاد رکھی۔ ان کی کاروباری کامیابی کا بڑا موڑ 1995 میں گجرات میں تجارتی بندرگاہ تعمیر اور چلانے کا معاہدہ ثابت ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم