بنگلہ دیش: بی این پی اور جماعت اسلامی میں فاصلے سے عوامی لیگ کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اَمَر بنگلہ دیش پارٹی (AB Party) کے چیئرمین مجیب الرحمان منجو نے خبردار کیا ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوری بالآخر عوامی لیگ کے لیے سیاسی فائدہ کا باعث بن سکتی ہے۔

چٹاگانگ میں ایک تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان کشیدگی کھلی محاذ آرائی میں تبدیل ہوئی تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ عوامی لیگ کو پہنچے گا۔

مزید پڑھیں:سہلٹ ٹیسٹ: پاکستان نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو بیٹنگ دیدی

انہوں نے بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1991 میں بی این پی نے جماعت اسلامی کی حمایت سے حکومت بنائی تھی، تاہم بعد میں تعلیمی اداروں اور طلبا سیاست میں اثر و رسوخ کے باعث دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، جس کے نتیجے میں پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان کے مطابق انہی تقسیموں نے 1996 میں عوامی لیگ کی واپسی کی راہ ہموار کی۔

مجیب الرحمان منجو نے کہا کہ 2001 میں سیاسی حالات کے باعث دونوں جماعتیں دوبارہ متحد ہوئیں اور طویل عرصے تک حکومت اور اپوزیشن میں اتحادی رہیں، تاہم اب ایک بار پھر ان کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:ڈھاکا ٹیسٹ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دے دی

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع بڑھتا رہا تو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کے سیاسی استعمال اور اصلاحات سے پیچھے ہٹنے کے رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔

اے بی پارٹی کے چیئرمین نے تنظیمی سطح پر اپنی جماعت کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ چٹاگانگ سمیت ملک بھر میں وارڈ اور تھانہ سطح تک تنظیم کو فعال بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp