حکومتِ پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ پر مذاکرات ابھی جاری ہیں، ایک طرف سخت مالیاتی نظم و ضبط، نئے ٹیکس اقدامات اور توانائی شعبے میں اصلاحات پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شعبے کو محدود ریلیف دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
’حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بنیادی مالی اہداف پر کافی حد تک اتفاق ہوچکا‘
سینیئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بنیادی مالی اہداف پر کافی حد تک اتفاق ہوچکا ہے، آئندہ بجٹ میں قریباً 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات، پیٹرولیم لیوی میں بڑا اضافہ، بجلی اور گیس نرخوں میں مزید ایڈجسٹمنٹ اور سرکاری اداروں میں اصلاحات شامل ہوں گی۔
مزید پڑھیں: آئندہ بجٹ میں کون سے نئے ٹیکس عائد ہوسکتے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مالی خسارہ 4 فیصد سے کم رکھنے اور ایف بی آر کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
مہتاب حیدر کے مطابق آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ حکومت صرف تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کے بجائے زرعی، ریٹیل اور کم ٹیکس والے شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائے، جبکہ توانائی شعبے میں سبسڈی کم کرکے قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق رکھا جائے۔ اسی تناظر میں گیس اور بجلی ٹیرف میں مرحلہ وار ردوبدل کا شیڈول بھی زیر غور ہے۔
آئی ایم ایف نے محصولات کے اہداف کو غیر معمولی سختی سے مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، شہباز رانا
ماہر معیشت اور سینیئر صحافی شہباز رانا کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بار محصولات کے اہداف کو غیر معمولی سختی سے مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت نے مجموعی طور پر قریباً 860 ارب روپے کے اضافی ریونیو اقدامات پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے، جس میں وفاق اور صوبے دونوں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے ایف بی آر ہدف کو باقاعدہ پرفارمنس معیار قرار دیا ہے، یعنی ہدف پورا نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو فنڈ سے خصوصی رعایت لینا پڑ سکتی ہے۔
شہباز رانا کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی، سپر ٹیکس کے خاتمے اور کارپوریٹ ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجاویز دینا چاہتے ہیں، تاہم آئی ایم ایف اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی ریلیف کے بدلے متبادل ٹیکس اقدامات لازمی کیے جائیں۔
’آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے پاکستان پر مزید سخت مالیاتی شرائط عائد کرنے کی تیاری کرلی‘
سینیئر صحافی شعیب نظامی کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے پاکستان پر مزید سخت مالیاتی شرائط عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے، جبکہ حکومت نے بھی نئے ٹیکسز اور ریونیو اقدامات کے ذریعے آئی ایم ایف اہداف پورے کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کے دوسرے روز اہم پیش رفت سامنے آئی، جس میں حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 215 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ مجموعی طور پر 430 ارب روپے کے اضافی ریونیو اقدامات کیے جائیں گے۔
شعب نظامی کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے خاص طور پر ریٹیل سیکٹر کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے، سیلز ٹیکس وصولیوں میں شفافیت بڑھانے اور ٹیکس چوری روکنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
’اسی تناظر میں حکومت نے ریٹیلرز کی رجسٹریشن کے لیے نئی اسکیم تیار کرلی ہے، جس کے تحت تاجروں کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان اور پیچیدگیوں سے پاک بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔‘
حکومت سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول کا دائرہ کار بھی وسیع کرنے جا رہی ہے۔ اس وقت ڈبے میں بند بیشتر اشیا آٹھویں شیڈول میں شامل ہیں، جس کی وجہ سے ان پر خوردہ قیمت اور سیلز ٹیکس کی شرح واضح درج نہیں ہوتی۔ تاہم آئندہ بجٹ میں متعدد اشیا کو آٹھویں شیڈول سے نکال کر تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے کوشاں ہے، شعیب نظامی
شعیب نظامی کے مطابق تھرڈ شیڈول میں شامل اشیا پر مینوفیکچررز کو قیمت اور سیلز ٹیکس کی شرح واضح طور پر درج کرنا لازمی ہوگا، جس سے نہ صرف ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ مارکیٹ میں شفافیت بھی آئے گی۔
شعیب نظامی نے بتایا کہ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد معیشت کی دستاویز سازی، ٹیکس چوری کی روک تھام اور آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ ریونیو اہداف کا حصول ہے، جبکہ حکومت بجٹ میں سخت مالی فیصلوں کے ذریعے عالمی مالیاتی ادارے کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات کا آغاز
ماہر معیشت کے مطابق آئندہ بجٹ ایک سخت اور محتاط بجٹ ہوگا، جس میں حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ پیٹرولیم لیوی، نئے ٹیکس، توانائی نرخوں اور اخراجات میں کنٹرول اس بجٹ کے اہم نکات ہوں گے، جبکہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد جاری رکھنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔













