جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

جمعہ 15 مئی 2026
author image

نعمت خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے بڑے شہروں میں رات اب صرف سکون یا اندھیرا نہیں لاتی، بلکہ اپنے سیاہ آنچل میں وہ زہر بھی چھپا کر لاتی ہے جو نسلِ نو کی رگوں میں خاموشی سے موت اتار رہا ہے۔ کبھی گلیوں کے نکڑ اور ویران کھنڈرات چرس اور ہیروئن کے قصوں کے لیے بدنام تھے، مگر اب موت کے سوداگروں نے طریقۂ کار بدل لیا ہے۔ اب آئس، کوکین، ویڈ اور مہلک کیمیکل ڈرگز نے ڈرائنگ رومز، تعلیمی اداروں اور اسکول کے بستوں تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ منشیات کا یہ کاروبار اب تنگ گلیوں سے نکل کر وسیع و عریض ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو چکا ہے، جہاں واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ کے ذریعے موت کی’ہوم ڈیلیوری‘ چند کلکس کی دوری پر ہے۔

حال ہی میں کراچی میں انمول عرف پنکی کی گرفتاری نے اس مکروہ دھندے کے اُن پردوں کو چاک کیا ہے جن کے پیچھے صرف مجرم ہی نہیں، بلکہ طاقت، سیاست اور وردی کے سائے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انکشاف کیا کہ انمول عرف پنکی کا نام پہلی مرتبہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب وہ کئی برس قبل وزیرِ ایکسائز تھے۔

اُن کے مطابق، ملزمہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی اور پورے پاکستان میں منشیات کی ترسیل اور سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔ یہ بیان اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے، کیونکہ اگر ایک ملزمہ برسوں سے مطلوب تھی تو پھر اُسے گرفتار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟

اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں، مگر ایک جواب اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ اُس کی گرفتاری پولیس نے نہیں بلکہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے کی، اور بعد ازاں ملزمہ کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ  یہ گرفتاری دراصل آئی بی کی کارروائی تھی، جس کی ’ڈیلیوری‘ پولیس کو دی گئی۔ یہ صورتحال اُس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ مقامی سطح پر اس نیٹ ورک کو غیر معمولی تحفظ حاصل تھا۔ اس کا ایک اور ثبوت وہ مبینہ آڈیو ہے، جس میں وہ تکبر سے یہ کہتے ہوئے سنائی دیتی ہے کہ ’پولیس اُسے گرفتار نہیں کر سکتی‘۔ یہ محض ایک عورت کا غرور نہیں، بلکہ اس گلے سڑے نظام پر ایک طمانچہ ہے، جہاں مجرم کو ریاست سے زیادہ اپنے سہولت کاروں پر یقین ہوتا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، اس کے کلائنٹس میں ملک کے بااثر طبقات شامل تھے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ قومی اسمبلی، ایک معروف ٹی وی اداکار اور ایک اداکارہ کے ناموں کی تصدیق کی ہے، جو مبینہ طور پر اُس سے کوکین خریدا کرتے تھے۔ سیاست اور شوبز سے تعلق رکھنے والے مزید ناموں کی جانچ جاری ہے، مگر یہ تین خریدار، بقول پولیس افسر، کنفرم ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو پھر معاملہ صرف ایک منشیات فروش خاتون کا نہیں رہتا، بلکہ یہ اُس پورے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں طاقتور طبقات خود اس زہر کی منڈی کے خریدار بن چکے ہیں۔

جب یہی خاتون گرفتاری کے بعد شاہانہ پروٹوکول میں عدالت پہنچی، تو عوام کے ذہنوں پر یہ سوال بجلی بن کر گرا کہ آخر یہ زہر بیچنے والے قانون سے زیادہ طاقتور کیوں ہیں؟ یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس ’کرائم اکانومی‘ کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے۔ کراچی سے خیبر تک، منشیات اب محض جرم نہیں بلکہ ایک منظم صنعت بن چکی ہے، جس کے پہیے اکثر وہی لوگ گھما رہے ہیں جنہیں اسے روکنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں، تو ریاست کی رِٹ ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے، اور پھر زہر بکتا رہتا ہے، لوگ اسے خریدتے رہتے ہیں اور پیسہ بنتا رہتا ہے۔

یہ مجرمانہ نگہبانی جو تباہی لا رہی ہے، اُس کا ادراک کرنے کے لیے حال ہی میں قائمہ کمیٹی میں پیش کی گئی رپورٹ پڑھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ صرف اداکار اور سیاست دان ہی نہیں، بلکہ مستقبل کے معمار بھی یہ زہر پی رہے ہیں۔

سال 2025 کی اس رپورٹ کے مطابق، ملک کے 58 اعلیٰ تعلیمی اداروں سے منشیات کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے۔ وفاقی دارالحکومت میں 153 اور پنجاب میں 130 کیسز تو صرف وہ ہیں جو فائلوں تک پہنچ سکے، اصل تعداد شاید کہیں زیادہ ہو۔ اب یہ زہر صرف لڑکوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ طالبات اور تعلیمی عملے کے ارکان بھی اس دلدل میں دھنس چکے ہیں۔

اس معیشت کا سب سے خوفناک پہلو کالا دھن ہے۔ آئس اور کوکین کے چند گرام لاکھوں روپے کا منافع دیتے ہیں، اور یہی پیسہ بڑے بڑے افسران اور اہلکاروں کے ضمیر خرید لیتا ہے۔ جب چھاپے سے پہلے ملزم کو اطلاع مل جائے، یا وہ سنگین جرم کے باوجود چند روز میں ضمانت پر باہر آ جائے، تو عوام کا قانون پر اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ لیاری گینگ وار سے لے کر آج کے آن لائن ڈرگ کارٹلز تک، سب میں ایک چیز مشترک ہے: طاقتور پشت پناہی۔

پنکی کا یہ کاروبار المیہ نہیں، بلکہ اصل المیہ وہ ڈھانچہ ہے جہاں ہر کوئی اپنا حصہ وصول کر کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اگر آج ایک نوجوان سڑک پر تڑپ رہا ہے تو قصور اس سسٹم سے جڑے اُن افراد کا ہے، جنہوں نے منافع کو انسانیت  اور اپنی ذمہ داری پر ترجیح دے دی۔ اعلیٰ حکام کے روایتی ’نوٹس‘ اپنی جگہ، مگر سوال وہی ہے کہ کیا اس بار مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا؟ کیا وردی کے پیچھے چھپے کردار کٹہرے میں آئیں گے؟

منشیات فروش کبھی اکیلے طاقتور نہیں ہوتے، انہیں طاقت کا انجکشن وہ لوگ لگاتے ہیں جن کے پاس انہیں روکنے کا اختیار ہوتا ہے۔ جب ریاست کے ستون ہی زہر کے سوداگروں کی ڈھال بن جائیں تو معاشرہ اپنی نسلوں کے تابوت خود تیار کر رہا ہوتا ہے۔ آج اگر اس کینسر کا جراحی علاج نہ کیا گیا تو کل ہماری مسجدیں، اسکول اور حتیٰ کہ گھر بھی سفید پاؤڈر اور دیگر ڈرگز کے دھوئیں کا مسکن بن جائیں گے۔ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ فیصلہ ریاست کو کرنا ہے کہ اُسے چند جیبیں بھرنی ہیں یا اپنی نسلیں بچانی ہیں۔ حکمران یاد رکھیں؛

’لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں‘

لیکن  یہاں تو حکمرانوں کا سب سے بڑا ایوان قومی اسمبلی بھی خود زد میں ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ڈاکٹر انعم فاطمہ پر ٹرولنگ، پی ٹی آئی کا خواتین کے ساتھ رویہ ایک بار پھر آشکار

فرانس: کروز شپ پر پیٹ کی بیماری پھیلنے کا خدشہ، 1700 مسافر قرنطینہ

بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے لیے ایئر ایمبولینس سمیت 11 بڑے صحت منصوبوں کا افتتاح کردیا

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز

کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟