ڈھاکہ یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف احتجاج، تصادم میں 17 افراد زخمی

اتوار 17 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں نئے وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف ہونے والے پرتشدد تصادم میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جھڑپیں احتجاج کرنے والے طلبہ، نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر کے حامیوں اور پولیس کے درمیان ہوئیں۔ یہ ہنگامہ صبح قریباً 10 بجے شروع ہوا اور دوپہر تک غازی پور میں واقع یونیورسٹی کیمپس میں جاری رہا۔

بنگلہ دیش حکومت نے بدھ کے روز شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال کو ڈھاکہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈؔ ٹیکنالوجی کا نیا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔ تاہم سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے فوراً بعد طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے اس تقرری کو مسترد کردیا۔

پہلے سے اعلان کردہ احتجاجی پروگرام کے تحت طلبہ اتوار کو کیمپس کے شاہد مینار کے قریب جمع ہوئے تاکہ آنے والے وائس چانسلر کو علامتی طور پر ریڈ کارڈ دکھایا جاسکے۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ نئے وائس چانسلر کے حامیوں اور باہر سے آنے والے افراد کے ایک گروپ نے اچانک دیسی ہتھیاروں سے ان پر حملہ کردیا جس کے بعد تصادم شروع ہوگیا۔

بعد ازاں پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں مظاہرین، وائس چانسلر کے حامیوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان تین طرفہ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

زخمی ہونے والوں میں غازی پور میٹروپولیٹن پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج امین الاسلام بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق 12 طلبہ بھی شدید زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بیرونی اداروں کے بجائے ڈھاکہ یونیورسٹی ہی کے اساتذہ میں سے مقرر کیا جائے۔

طلبہ کے مطابق اندرونی اساتذہ یونیورسٹی کے خصوصی تعلیمی نظام، انتظامی مسائل اور طلبہ کے حالات سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp