تقریباً 20 کروڑ سال قبل موجودہ جنوبی سویڈن کا علاقہ گھنے جنگلات اور سرسبز پودوں سے ڈھکا ہوا تھا جہاں مگرمچھ اور ڈائنوسار گھوما کرتے تھے۔
ماہرِ آثارِ قدیمہ ویوی واجدا اور ان کی ٹیم اسی قدیم دنیا کو دوبارہ تشکیل دینے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔
اسٹاک ہوم کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ایک حصے میں واقع اپنے دفتر میں ویوی واجدا نے صحافیوں کو خوش آمدید کہا۔
یہ بھی پڑھیں: سویڈن کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟
ان کا دفتر کتابوں اور فوسل نمونوں سے بھرا ہوا تھا، ان میں سے بعض اوورہیڈ پروجیکٹر کے ذریعے دیوار پر بھی دکھائے جا رہے تھے۔
وہ اپنے خوردبین کے پیچھے بیٹھی جنوبی سویڈن کے علاقے اسکانے سے جمع کیے گئے نمونوں کا جائزہ لے رہی تھیں۔
ویوی واجدا نے ایک نمونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پولن کا نمونہ ہے جو انہوں نے فیلڈ سے جمع کیا تھا۔
Swedish expert on mission to bring Jurassic era to life https://t.co/pmo4RVYRQm
— CTV News (@CTVNews) May 20, 2026
دیوار پر دکھائی دینے والے یہ بھورے اور زرد رنگ کے گول اور مستطیل نما ذرات دراصل لاکھوں سال پرانے پودوں کے آثار تھے۔
سویڈن میں جراسک دور کے زیادہ تر فوسلز صوبہ اسکانے میں دریافت ہوئے ہیں، جہاں یہ آثار زمین میں موجود گہری دراڑوں کی وجہ سے محفوظ رہے۔
انہی دراڑوں نے فوسلز کو برفانی ادوار کے اثرات سے بچائے رکھا، ورنہ سویڈن میں برفانی زمانوں نے قدیم نشانات مٹا دیے تھے۔
مزید پڑھیں: سویڈن کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟
ویوی واجدا کے مطابق، وہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہیں کہ جراسک دور میں یہاں کس قسم کے جنگلات تھے۔
’جب میں پولن کا ایک ذرہ دیکھتی ہوں تو میرے سامنے درخت اور پورا ماحولیاتی نظام آجاتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ جب بھی وہ کسی پتھر یا فوسل کو دیکھتی تھیں تو ان کے ذہن میں قدیم دنیا کی ایک مکمل تصویر ابھر آتی تھی۔
’اسی تصور کو عام لوگوں تک پہنچانے کا خیال ان کے تحقیقی سفر کے دوران آہستہ آہستہ پروان چڑھا۔‘














