فرانس کی بڑی انجینئرنگ اور ٹیلی کام کمپنی بوئیگ کے چیف ایگزیکٹو اولیویے روسا نے خبردار کیا ہے کہ یورپ امریکی سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر خطرناک حد تک انحصار کرتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اس کی خودمختاری کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا حکومت نے اسٹار لنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے؟
بوئیگ کے چیف ایگزیکٹو اولیویے روسا نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ یورپی پالیسی ساز اس خطرے کا مکمل ادراک نہیں کر رہے کہ براعظم تیزی سے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیٹلائٹ سروسز وہ دو شعبے ہیں جہاں یورپ کو فوری طور پر اپنی آزاد صلاحیتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک، جو اسپیس ایکس کے تحت کام کرتی ہے، تقریباً 10 ہزار سیٹلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کر چکی ہے اور عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز میں نمایاں برتری رکھتی ہے۔ روسا کے مطابق کسی ایک نجی کمپنی یا فرد کے زیرِ کنٹرول انفراسٹرکچر پر انحصار یورپ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اولیویے روسا نے زور دیا کہ یورپ کو اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک جیسے متبادل یورپی نظام تیار کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی اور اسٹریٹجک مسئلہ بھی بن چکا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایلون مسک کا یورپی سیاسی مباحث میں کردار بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جہاز پر اسٹار لنک فری وائی فائی کی سروس شروع، کتنا تیز انٹرنیٹ میسر ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق بوئیگ کمپنی فرانس کی دوسری بڑی ٹیلی کام کمپنی SFR میں بڑی شراکت خریدنے کے لیے بھی پیش رفت کر رہی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو یورپ کی حالیہ تاریخ کے بڑے ٹیلی کام معاہدوں میں شمار ہو سکتا ہے۔













