گرما گرم کھانا نگلنا مہنگا پڑ گیا، خاتون کی غذائی نالی  میں 8 سینٹی میٹر لمبا السر بن گیا

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین میں ایک خاتون کو ہاٹ پاٹ جلدی جلدی اور انتہائی گرم حالت میں کھانا مہنگا پڑ گیا، جس کے نتیجے میں اس کی غذائی نالی میں 8 سینٹی میٹر لمبا السر بن گیا۔ ڈاکٹروں نے اس واقعے کے بعد خبردار کیا ہے کہ بہت زیادہ گرم کھانا نگلنے کی عادت غذائی نالی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور بعض صورتوں میں کینسر کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

چین کے وسطی صوبے ہونان کے شہر چانگشا سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ خاتون وانگ کو ہاٹ پاٹ تیزی سے کھانے کے باعث غذائی نالی میں شدید زخم اور 8 سینٹی میٹر لمبا السر ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق خاتون نے بتایا کہ مارچ کی ایک ٹھنڈی شام وہ دوستوں کے ساتھ ہاٹ پاٹ کھاتے ہوئے گفتگو میں اس قدر مگن تھیں کہ بھوک اور جلد بازی کے باعث کھانے کو ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیے بغیر سیدھا نگل لیا۔

کھانا نگلتے ہی انہیں سینے میں جکڑن محسوس ہوئی، جس پر انہوں نے فوری طور پر ٹھنڈا پانی پی لیا تاکہ تکلیف کم ہو سکے۔ کچھ دیر بعد طبیعت بہتر محسوس ہونے پر انہوں نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

تاہم اگلے روز صورتحال اس وقت تشویشناک ہو گئی جب انہیں پانی پینے میں بھی شدید درد محسوس ہونے لگا۔ بعد ازاں چانگشا ایٹھ ہاسپٹل میں طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ ان کی غذائی نالی میں 8 سینٹی میٹر لمبا السر بن چکا ہے، جو ایک بالغ انسان کی غذائی نالی کے تقریباً ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔

معالج ڈاکٹر وو شیاوچنگ کے مطابق اکثر لوگ غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ غذائی نالی زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ عموماً 50 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی ہی برداشت کر پاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہاٹ پاٹ سے نکالا گیا کھانا اکثر 80 سے 90 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہوتا ہے، جو غذائی نالی کی حساس جھلی کو جلا سکتا ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق وانگ کے معاملے میں منہ کی حساس جھلی نے انہیں گرم کھانا جلدی نگلنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں غذائی نالی کی اندرونی تہہ بری طرح متاثر ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین میں ہاٹ پاٹ کھاتے وقت ٹھنڈا پانی پینے کی روایت عام ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے گرمی کا اثر کم ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عادت غذائی نالی کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ڈاکٹر وو شیاوچنگ نے خبردار کیا کہ اگر غذائی نالی کے السر کا بروقت علاج کر لیا جائے تو عموماً مریض مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے، تاہم بار بار ایسے زخم بننے کی صورت میں کینسر کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

وانگ کا یہ واقعہ مئی میں منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گیا، جہاں صارفین نے چینی معاشرے میں بہت گرم کھانا کھانے کی عادت پر تبصرے کیے۔

چین میں عمومی طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ کھانا جتنا زیادہ گرم ہو، اتنا ہی صحت بخش اور لذیذ ہوتا ہے۔ ہاٹ پاٹ چین بھر میں مقبول ترین کھانوں میں شمار ہوتا ہے، خصوصاً سچوان اور چونگ چنگ طرز کا مصالحے دار ہاٹ پاٹ، جو اپنی تیز مرچوں اور مخصوص ذائقے کی وجہ سے بے حد پسند کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں غذائی نالی کے کینسر کے تقریباً 40 فیصد مریض چین میں پائے جاتے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ بہت گرم کھانا کھانے کی روایت سمجھی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں لوگوں میں یہ شعور پیدا ہونا شروع ہوا ہے کہ ’زیادہ گرم کھانا بہتر‘ ہونے کا تصور درست نہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی کینسر ریسرچ ایجنسی بھی 65 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم مشروبات کو ’ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والا‘ قرار دے چکی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا، ’واقعی کچھ لوگ بہت گرم کھانا پسند کرتے ہیں کیونکہ انہیں وہ زیادہ ذائقہ دار لگتا ہے۔ میں نے ایک بار گرم توفو کھایا تھا جس سے تالو جل گیا اور کئی دن تک تکلیف رہی۔‘

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس پرانی سوچ کو بدلیں کہ کھانا صرف گرم ہی اچھا لگتا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp