ایبولا وائرس کا خطرہ، پیرس سے امریکا جانے والی پرواز کینیڈا کی جانب موڑ دی گئی

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیرس سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والی ایئر فرانس کی پرواز کو افریقا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عائد نئی سفری پابندیوں کے نتیجے میں کینیڈا کے شہر مانیٹریال کی جانب موڑ دیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب جمہوریہ کانگو سے تعلق رکھنے والا ایک مسافر پیرس میں ’غلطی سے‘ اس پرواز میں سوار ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی نئی لہر، 65 افراد ہلاک

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ترجمان نے بتایا کہ ایبولا وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے عائد کردہ نئی امریکی سفری پابندیوں کے تحت اس مسافر کو پرواز نمبر ‘اے ایف آر 378’ پر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

امریکی بارڈر ایجنسی نے پبلک ہیلتھ کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرتے ہوئے طیارے کو ڈیٹرائٹ میٹروپولیٹن ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے روک دیا، جس کے بعد بدھ کی شام پرواز کا رخ کینیڈا کی طرف موڑ کر اسے مانیٹریال کے ٹروڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔

پبلک ہیلتھ ایجنسی آف کینیڈا کے ترجمان کریگ کیوری نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام نے کینیڈا کو مطلع کیا تھا کہ طیارے میں ایک ایسا مسافر موجود ہے جس نے گزشتہ 21 دنوں کے دوران جمہوریہ کانگو، یوگنڈا یا جنوبی سوڈان کا سفر کیا تھا۔

کینیڈین قرنطینہ افسر نے مانیٹریال پہنچنے پر مسافر کا طبی معائنہ کیا اور واضح کیا کہ اس میں ایبولا وائرس کی کوئی علامات نہیں پائی گئیں اور وہ مکمل طور پر صحت مند تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا پھیلنے پر عالمی ایمرجنسی نافذ، 300 سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ

ایئر فرانس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نئی امریکی پالیسی کے تحت کانگو سمیت مخصوص افریقی ممالک سے آنے والے مسافروں کو صرف واشنگٹن کے ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے ہی امریکا میں داخل ہونے کی اجازت ہے تاکہ وہاں ان کی خصوصی اسکریننگ کی جا سکے۔

مانیٹریال ایئرپورٹ پر متعلقہ مسافر کو جہاز سے اتارنے کے بعد واپس پیرس روانہ کر دیا گیا جبکہ ایئر فرانس کا طیارہ باقی تمام مسافروں کے ساتھ اپنی اصل منزل ڈیٹرائٹ کے لیے اڑ گیا جہاں وہ بحفاظت لینڈ کر گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے حال ہی میں افریقا میں پھیلنے والے ایبولا وائرس کے اس نئے حملے کو بین الاقوامی تشویش کی حامل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے۔

یہ وبا ایبولا کی ایک نایاب قسم ‘بنڈی بوگیو’ سے وابستہ ہے جس کی تدارک کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص دوا دستیاب نہیں ہے، اور اسی بنا پر امریکی محکمہ داخلہ نے گزشتہ دنوں افریقا کے متاثرہ خطوں سے آنے والے مسافروں کی آمد پر سخت ترین پابندیاں عائد کی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp