چین کے شمالی صوبے میں واقع کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے کے باعث ایک ہولناک دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 82 کان کن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور متعدد لاپتا ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، جس وقت یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا، اس وقت کان کے اندر دو سو سینتالیس کان کن کام میں مصروف تھے۔ دھماکے کے فوری بعد انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔
امداد کارروائیوں کے دوران کان میں پھنسے ہوئے ایک سو سے زائد افراد کو بحفاظت زندہ نکال لیا گیا ہے، جبکہ 188 کان کنوں کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کان کے اندر پھیلی زہریلی گیس کی وجہ سے زیادہ تر زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کی جگہ پر کاربن مونو آکسائیڈ گیس خطرناک حد تک جمع ہو گئی تھی، جسے اس ہولناک دھماکے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ چین میں کوئلے کی کانوں میں ایسے خونی حادثات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ اس سے قبل سال دو ہزار نو میں بھی شمال مشرقی صوبے ہیلونگ جیانگ کی ایک کان میں دھماکے سے ایک سو سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے، جبکہ سال دو ہزار تئیس میں اندرونِ منگولیا کی ایک اوپن پٹ کان بیٹھنے سے ترپن کان کن مارے گئے تھے۔














