قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور معاونت سے بلوچستان کی اہم ترین کوہلو ٹو پنجاب قومی شاہراہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ اہتمام شاہراہ پر بلیک ٹاپ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور پلوں کی تعمیر کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
یہ اہم قومی شاہراہ بلوچستان کو پنجاب سے ملانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، جس سے نہ صرف طلبہ اور مریضوں بلکہ عام شہریوں اور تاجروں کو بھی سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ علاقے کی ترقی اور عوامی سہولت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
بلوچستان کے شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے جاری اس منصوبے کو ایک بڑی سہولت قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ کوہلو شاہراہ ماضی میں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی جس کے باعث سفر کرنا انتہائی دشوار تھا، تاہم اب اس اہم مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے۔
شہریوں کے مطابق پنجاب جانے والے طلبہ، مریضوں اور تاجروں کے لیے یہ قومی شاہراہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جس سے نہ صرف سفری مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
عوام نے بتایا کہ قریباً 36 کلومیٹر طویل یہ قومی شاہراہ مکمل ہو چکی ہے جبکہ پلوں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے تعمیر ہونے والی اس شاہراہ کے باعث کوہلو، بارکھان اور پنجاب کے درمیان سفری دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔














