مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے دور میں جہاں دنیا مسلسل نئی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کیا ہمارا دماغ اس رفتار کا ساتھ دے سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: مرنے کے بعد یاد رکھے جانے کا خیال کیوں اہم ہے، اس کے اضافی فوائد کیا ہیں؟
برطانیہ کی معروف نیوروسائنسدان ہینا کرچلو اپنی نئی کتاب ’دی 21st سینچری برین‘ میں بتاتی ہیں کہ اگرچہ انسانی دماغ کی بنیادی ساخت ہزاروں برس سے تقریباً ایک جیسی ہے لیکن ہم اب بھی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیمبرج سے وابستہ ہینا کرچلو کے مطابق 21ویں صدی میں کامیابی کے لیے صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں بلکہ جذباتی ذہانت، ہمدردی، تخلیقی سوچ، غیر یقینی حالات کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور طویل المدتی فیصلہ سازی جیسی خصوصیات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی دراصل انسانی دماغ کے مطالعے کا نتیجہ ہے اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسی علم کو استعمال کرتے ہوئے اپنی فطری ذہانت کو مزید مؤثر بنائیں۔
کرچلو کے مطابق جذباتی ذہانت اور ہمدردی کو اکثر ’سافٹ اسکلز‘ سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہی صلاحیتیں زندگی میں اطمینان، بہتر تعلقات اور کامیابی کی بڑی پیش گوئی ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق خود پر رحم اور اپنی کیفیات کو سمجھنے کی عادت دوسروں کے لیے ہمدردی بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
وہ اس جانب بھی توجہ دلاتی ہیں کہ آنتوں کی صحت اور دماغی کارکردگی میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ متنوع گٹ مائیکروبایوم انسان میں ایثار اور مثبت سماجی رویوں کو فروغ دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا تھوڑی سی خودغرضی تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے؟ ماہرین کی دلچسپ رائے
تخلیقی صلاحیت بڑھانے کے لیے وہ فطرت میں چہل قدمی، ذہنی آوارہ خیالی معیاری نیند اور سکون کے لمحات کو ضروری قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہی وہ اوقات ہوتے ہیں جب دماغ نئے خیالات پیدا کرتا ہے۔
ہینا کرچلو کا کہنا ہے کہ جسمانی ورزش بھی دماغی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ نئے عصبی خلیات اور روابط بنانے میں مدد دیتی ہے جس سے دماغ زیادہ لچکدار اور تیز رہتا ہے۔
وہ ’بایوانرجیٹکس‘ یعنی دماغی توانائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ مناسب نیند، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش دماغی خلیات کے توانائی مراکز، یعنی مائٹوکانڈریا، کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر زندگی کی تیز رفتار تبدیلیاں آپ کو پریشان کرتی ہیں تو یہ ایک فطری احساس ہے۔ انسان فطری طور پر تبدیلی سے گھبراتا بھی ہے اور اسی کی طرف بڑھتا بھی ہے۔ اس حقیقت کو قبول کرنا اور خود کو ذہنی طور پر لچکدار بنانا ہی مستقبل کے لیے بہترین حکمت عملی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا بدظنی انسان کو دھوکہ کھانے سے بچالیتی ہے؟
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات کے باوجود انسانی دماغ کی اصل طاقت اس کی تخلیقی صلاحیت، جذباتی فہم اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی قدرت میں ہے۔ ہینا کرچلو کہتی ہیں کہ مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو اپنی ذہنی لچک، تجسس اور سیکھنے کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بناتے رہیں گے۔














