نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا ہے کہ اس ملاقات میں پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ترجیحی شعبوں میں تعاون کے فروغ، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ امریکا کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اور وسیع شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کی مارکو روبیو سے ملاقات پہلے جمعرات کو ہونا تھی تاہم بعد ازاں اسے جمعہ تک مؤخر کر دیا گیا۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ واشنگٹن میں مصروفیات مکمل کرنے کے بعد نائب وزیراعظم اسی روز اسلام آباد واپس روانہ ہوں گے۔
🔊PR No.1️⃣3️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Deputy Prime Minister/Foreign Minister’s Visit to Washington, D.C., 29 May 2026
🔗⬇️ pic.twitter.com/K8Lw3zSmf2
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 28, 2026
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور کارروائیوں کا تبادلہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
مارکو روبیو نے اجلاس کے دوران صحافیوں اور شرکا کو بتایا تھا کہ امریکی انتظامیہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں پیش رفت کی امید رکھتی ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ تہران اس وقت دباؤ میں ہے اور اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اس ’تزویراتی تعطل‘ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں تو کبھی معاہدے کی اپیل کرتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عید کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایسا امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا جو ایرانی قوم کے وقار اور عزت کے مطابق ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ اس طرح کا معاہدہ نہ صرف ایران کی حقیقی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا بلکہ پورے خطے کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔














