یوکرین کی جنگ، اہل غزہ کی نسل کشی اور ایران پر امریکا و اسرائیلی حملہ۔ بظاہر یہ الگ الگ مقامات کے حربی مناظر ہیں مگر یہ ایک دوسرے سے الگ ہیں نہیں۔
عسکری امور کے ماہرین کے لیے یہ ربط ایران جنگ سے قبل بھی واضح تھا مگر اب سب کچھ اتنا عیاں ہوتا چلا جا رہا ہے کہ جلد ہی جنگوں میں دلچسپی رکھنے والے عام لوگوں کو بھی شاید سب صاف صاف نظر آنے لگے۔
سوال یہ ہے کہ وہ کڑیاں کونسی ہیں جو ان تینوں حربی ایونٹس کو جوڑتی ہیں؟ سب سے طاقتور کڑی تو امریکا ہے جو تینوں ہی جنگوں میں پوری طرح ملوث ہے۔ دوسری کڑی اسرائیل ہے جس کے صہیونی فلسطین تک مغربی نہیں بلکہ مشرقی یورپ سے لائے گئے تھے۔
یعنی روس، یوکرین، پولینڈ، بیلا روس، رومانیہ، ہنگری اور چیکوسلواکیہ وغیرہ کے باشندے۔ اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں ہولوکاسٹ رونما ہوا تھا۔ یوں اسرائیل کی حکمران اشرافیہ کا وطن اصلی یہی ممالک ہیں اور ان کے پاس دوہری شہریت کی صورت ان ممالک کے بھی پاسپورٹ ہیں۔ مثلاً موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو ہی لے لیجیے، اس کے والدین پولینڈ سے اسرائیل گئے تھے۔ تینوں جنگوں کے بیچ ربط کی تیسری کڑی روس ہے جس کے لیے ایران بھی یوکرین جیسی ہی اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔
کئی دہائیوں تک امریکا کی سب سے بڑی قوت یہ تھی کہ وہ بیک وقت مختلف خطوں میں بحران کھڑے بھی کرسکتا تھا اور ان سے نمٹ بھی سکتا تھا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تو یہ تصور اور پختہ ہو گیا تھا کہ واشنگٹن جہاں چاہے فوجی مداخلت کرے، پابندیاں لگائے، حکومتیں گرائے یا جنگیں لمبی کھینچے، اس کی عسکری اور صنعتی طاقت اس بوجھ کو اٹھا لے گی۔ مگر یوکرین جنگ، غزہ بحران اور ایران کے ساتھ حالیہ تصادم نے پہلی مرتبہ اس تصور میں دراڑ ڈالی ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ انہی دنوں امریکی پالیسی سازحلقوں میں اوور اسٹریچ یعنی حد سے زیادہ پھیلاؤ کی اصطلاح دوبارہ سنائی دینے لگی ہے۔ یوکرین کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنا، اسرائیل کے لیے دفاعی نظام متحرک رکھنا، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، اور ساتھ ہی چین کو بحرالکاہل تک محدود کرنے کی تیاری ۔ یہ سب ایک ایسے امریکا کی تصویر پیش کرتے ہیں جو بظاہر اب بھی طاقتور ہے، مگر اندر سے پہلی بار اپنے اعصاب ٹوٹتے محسوس کر رہا ہے۔
ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی میں یہ کمزوری خاص طور پر نمایاں ہوئی۔ سیز فائر کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کو یہ توقع تھی کہ ان کی جانب سے کیے گئے شدید حملے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تہران مذاکرات کی میز پر زیادہ لچکدار رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایران نے نہ صرف سخت مؤقف برقرار رکھا بلکہ افزودہ یورنیم کے معاملے پر بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اس کی ایک بڑی وجہ شاید تہران کا وہ ادراک ہے جو اسے حالیہ 40 روزہ جنگ سے حاصل ہوا ہے۔ دنیا بھر کے عسکری تجزیہ کار متفق ہیں کہ ایران نے اس جنگ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امریکا ایک نئی طویل جنگ افورڈ نہیں کر سکتا۔ یہ محض سیاسی خواہش نہیں بلکہ عسکری حقیقت بھی بنتی جا رہی ہے۔ امریکی دفاعی ذخائر، خصوصا ایئرڈیفنس سسٹم، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ دونوں جگہ تیزی سے استعمال ہوئے ہیں۔ پینٹاگون کے اندر سے بارہا یہ تشویش سامنے آئی کہ ان ہتھیاروں کی کمی پوری کرنے کی رفتار جنگی استعمال کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جدید جنگیں صرف فوجی نہیں بلکہ صنعتی بھی ہوتی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ ہتھیار ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون انہیں زیادہ تیزی سے ری پلیس کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران آج مذاکرات میں کمزور فریق کی نفسیات کے ساتھ نہیں بیٹھا۔ تہران سمجھتا ہے کہ واشنگٹن جنگی دباؤ بڑھانے سے زیادہ نکلنے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی، بیک چینل ڈپلومیسی جیسے الفاظ زیادہ سنائی دینے لگے ہیں۔ امریکی سینیٹ میں جنگی مداخلت کے خلاف بڑھتی ہوئی آوازیں بھی اسی کا حصہ ہیں۔ امریکی عوام عراق اور افغانستان کے بعد پہلے ہی طویل جنگوں سے بیزار ہیں، اور اب معیشت، افراط زر اور اندرونی سیاسی تقسیم نے بیرونی مہمات کے لیے گنجائش مزید کم کر دی ہے۔
یہ سب صرف ایران تک محدود نہیں۔ روس بھی انہی علامات کو غور سے دیکھ رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے آغاز میں مغرب کو یقین تھا کہ معاشی پابندیاں، فوجی امداد اور سفارتی دباؤ روس کو یا تو پسپا ہونے پر مجبور کر دیں گے یا اندرونی بحران پیدا کر دیں گے۔ لیکن تین برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد صورتِ حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ روسی معیشت زمیں بوس نہیں ہوئی، جنگی صنعت مسلسل چل رہی ہے، اور ماسکو اب اس جنگ کو صرف یوکرین تک ہی محدود نہیں بلکہ نیٹو کے ساتھ ایک تاریخی کشمکش کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں بالٹک ریاستوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایسے ڈرون حملوں کی خبریں سامنے آئیں جو بالٹک حدود سے گزر کر روسی علاقوں، خصوصاً سینٹ پیٹرزبرگ، تک پہنچے۔ روسی میڈیا اور قوم پرست حلقوں میں اس کے بعد یہ بیانیہ مضبوط ہوا ہے کہ نیٹو ممالک عملی طور پر یوکرین جنگ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ لہذا بالٹک ریاستوں میں سے کسی ایک بالخصوص لاطویا کو عبرت کی مثال بنایا جائے۔ ابھی اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ روس واقعی لاطویا یا کسی دوسری بالٹک ریاست پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، لیکن ماسکو کے اندر ایک سوچ ضرور ابھر رہی ہے کہ نیٹو کی اجتماعی دفاعی ضمانت کو کسی نہ کسی مرحلے پر ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صدر پیوٹن کے حالیہ دورہ بیجنگ کا ایک مقصد اس حملے کے لیے صدری شی جن پنگ رضامندی حاصل کرنا بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ سوچ کیوں پیدا ہو رہی ہے؟ اس کی وجہ صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ روسی قیادت یہ دیکھ رہی ہے کہ ایران کے معاملے میں یورپ نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ غزہ پر بھی مغرب کے اندر اختلافات نمایاں ہوئے۔ خود امریکا کے اندر بھی سیاسی و عسکری تنہائی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ روس میں یہ تاثر تقویت حاصل کر رہا ہے کہ لاطویا کو ہٹ کرنے کی صورت ٹرمپ بھی یورپ کا ساتھ نہیں دے گا۔
اگر ماسکو اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ نیٹو کی ڈیٹرنس اب پہلے جیسی یقینی نہیں رہی تو یہ یورپ کے لیے انتہائی خطرناک مرحلہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سرد جنگ کے بعد پہلی بار روس کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ مغربی اتحاد اب سیاسی و عسکری چیلنج نہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں یوکرین جنگ، ایران بحران اور امریکی اندرونی سیاست ایک دوسرے سے خطرناک حد تک جڑ جاتے ہیں کیونکہ سوال یہ کھڑا ہوجاتا ہے کہ جس ٹرم سے ایران کا بحران تمامتر دھمکیوں کے باوجود نہیں سنبھال پا رہا، وہ لاطویا پر کسی ممکنہ حملے کی صورت یورپ کے لیے کیا کر پائے گا ؟
مگر اس پوری تصویر کا سب سے اہم اور شاید سب سے خاموش کردار چین ہے۔ بیجنگ نے اب تک خود کو براہِ راست کسی جنگ میں فریق نہیں بنایا، یعنی وہ کھل کر کسی بھی جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ مگر وہ ان تمام بحرانوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چین جانتا ہے کہ جتنا زیادہ امریکا یوکرین، ایران اور مشرق وسطیٰ میں الجھا رہے گا، اتنا ہی کم فوکس بحرالکاہل اور تائیوان پر رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے مغربی پابندیوں کے فوری بعد سے روس کو مکمل تنہائی سے بچایا، ایران کے ساتھ معاشی روابط برقرار رکھے، اور ساتھ ہی خود کو ایک ’ذمہ دار طاقت‘ کے طور پر بھی پیش کیا۔
کئی مغربی تھنک ٹینکس اب چین، روس اور ایران کے شتراک کی بات کر رہے ہیں، حالانکہ یہ کوئی باضابطہ عسکری اتحاد نہیں۔ درحقیقت ان تینوں ممالک کو جوڑنے والی چیز نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ ایک ہی مشترک مفاد ہے، اور وہ ہے امریکی غلبے کو محدود کرنا۔ چین شاید یہ نہیں چاہتا کہ روس نیٹو سے براہِ راست جنگ میں الجھ جائے یا ایران مکمل تباہی کی طرف چلا جائے۔ لیکن وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ امریکا اتنا مصروف رہے کہ عالمی طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہوتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ کی سفارت کاری اب زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے۔
اسی پس منظر میں حالیہ سفارتی سرگرمیاں دلچسپ بن جاتی ہیں۔ ٹرمپ کا بیجنگ جانا، اس کے فوری بعد صدر پیوٹن کی بیجنگ آمد، اور شہباز شریف کا دورہ چین دنیا پر عیاں کر رہے ہیں کہ اب ہم اس دور میں کھڑے ہیں جہاں راستے بیجنگ کے گریٹ پیپلزہال کی جانب جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کے اچانک بڑھتے ہوئے کردار، اور مختلف طاقتوں کے درمیان بیک چینل روابط کو الگ الگ دیکھنے کی بجائے اگر ایک وسیع البنیاد اسٹریٹیجک بندوبست کے طور پر دیکھا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اسلام آباد بیجنگ کا ہی رائٹ ہینڈ ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ بیجنگ کے حالیہ مناظر کے دوران امریکا، چین اور روس کے درمیان کوئی باقاعدہ نوعیت کا بڑا بارگین طے پا چکا ہو۔ عالمی سیاست اکثر اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ تینوں بڑی طاقتیں اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہوں جہاں جارحانہ تیور کسی کے بھی مفاد میں نہیں رہے۔ امریکا مسلسل جنگوں کا بوجھ کم کرنا چاہتا ہے، چین عالمی تجارت اور استحکام کو مکمل تباہی سے بچانا چاہتا ہے، جبکہ روس اپنی یوکرینی کامیابیوں کو کسی مذاکراتی عمل سے قبول کروانے کا متمنی لگتا ہے۔
پاکستان کی اہمیت بھی اسی نئے تناظر میں بہت بڑھ رہی ہے۔ اسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو بیک وقت چین، امریکا، خلیجی دنیا اور کسی حد تک روس کے ساتھ رابطے رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے کردار کا ذکر مختلف سفارتی بیانات میں نمایاں ہوا۔ یہ محض جنوبی ایشیا کی سیاست نہیں بلکہ بڑے عالمی بندوبست کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
دنیا اس وقت شاید ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جنگیں اپنی جغرافیائی حدود کھو رہی ہیں۔ یوکرین کی خندقیں، غزہ کے کھنڈر، تہران کے مذاکرات اور بالٹک کی سرحدیں دراصل ایک ہی عالمی تبدیلی کے مختلف چہرے بنتے جا رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون سی جنگ کہاں ختم ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ ان سب جنگوں کے بعد دنیا کی طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا ؟
امریکا اب بھی دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے، مگر پہلی مرتبہ اس کے حریفوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ واشنگٹن ہر محاذ پر ایک ساتھ اپنی مرضی نافذ نہیں کر سکتا۔ روس اس کمزوری کو اسٹریٹیجک موقع سمجھ رہا ہے، ایران اسے اپنی بقا کی گارنٹی کے طور پر پڑھ رہا ہے، اور چین اسے اپنی طویل المدت جیوپولیٹکل قیادت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شاید اسی لیے آج کی سب سے اہم خبر کوئی ایک جنگ نہیں، بلکہ ان جنگوں کے درمیان ابھرتا ہوا تعلق ہے۔ کیونکہ جب مختلف محاذ ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے لگیں تو پھر دنیا علاقائی تنازعات کے دور سے نکل کر عالمی طاقتوں کی نئی تقسیم کے دور میں داخل ہو جاتی ہے۔ وہی تقسیم جس بچنے کی ڈونلڈ ٹرمپ نے سرتوڑ کوششی کیں مگر ہر کوشش کا نتیجہ سر مزید ٹڑوانے کی کی صورت ہی نکلا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













