بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ کے مشیر صلاح الدین احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ سیتاکُنڈا کے علاقے جنگل سلیم پور، چٹگرام میں ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی کوشش کو مشترکہ سیکیورٹی آپریشنز کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں جمنا پل کے قریب ٹرک الٹنے سے 15 افراد ہلاک
ڈھاکا میں پولیس ہیڈکوارٹرز کے نیشنل آپریشن مانیٹرنگ سینٹر کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا اور متعدد مطلوب افراد کو گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق علاقے میں حالیہ پرتشدد حملے کے دوران مسلح گروہوں نے سیکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، جبکہ سڑکوں کو کھدائی کے ذریعے بند کرنے کی بھی کوشش کی گئی تاکہ سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔
مشترکہ فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے صبح 4 بجے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا اور متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ رَیپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے مطابق اس کارروائی میں یاسین بریگیڈ نامی گروہ ملوث تھا۔
ضلعی پولیس کے مطابق یہ علاقہ کئی برس سے جرائم پیشہ گروہوں کے زیر اثر تھا، جہاں مبینہ طور پر مقامی گینگ لیڈر یاسین اور اس کے ساتھیوں کا کنٹرول قائم تھا۔ حکام کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں ریاستی رٹ بحال کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:یو اے ای کا خواب چکنا چور: بنگلہ دیش نے پہلی بار انڈر 19 ایشا کپ کا ٹائٹل جیت لیا
وزیر داخلہ کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ علاقے کو مستقبل میں ایک مربوط سیکیورٹی اور انتظامی مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی، جس میں پولیس اور رَیب اکیڈمی، اسپورٹس کمپلیکس اور جیل کمپلیکس شامل ہوں گے۔
انہوں نے سَوار میں پولیس کے مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ تین اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔













