بین الاقوامی سطح پر پاکستانی فلم سازوں نے ایک بار پھر بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ نیپال میں منعقدہ ’کھٹمنڈو ڈاک لیب‘ میں پاکستانی فلم سازوں ماہ نور بتول اور شاہنواز احمد خان کی دستاویزی فلم (ڈاکومنٹری) ’دی ایمرجنسی ایگزٹ‘ نے ’اسپرٹ آف ڈاک لیب‘ کا باوقار اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔
اس بین الاقوامی تقریب میں پاکستان کی طرف سے صرف اسی ایک پروجیکٹ کا انتخاب کیا گیا تھا، جس نے نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی فلموں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی، جبکہ دیگر 3 اعزازات بھارتی فلموں کے حصے میں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلم ’موکلانی‘ نے جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ جیت لیا
یہ دستاویزی فلم پاکستان کے شمال مغربی سرحدی شہر ‘پارا چنار’ کے جنگ زدہ اور متاثرہ لوگوں کی زندگیوں پر مبنی ہے، جو پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔ چونکہ دونوں فلم ساز خود بھی پارا چنار کے رہائشی ہیں، اس لیے یہ موضوع ان کے دل کے بہت قریب ہے۔
ڈائریکٹرز کے مطابق یہ فلم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح عام لوگ مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنی روزمرہ کی زندگی، رشتوں اور معمولات کو برقرار رکھتے ہیں اور نامساعد حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ پاکستانی فلم جس کا افتتاح مادرِ ملت فاطمہ جناح نے کیا
سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں ماہنور بتول نے اس فلم کو ان لوگوں کے نام کیا ہے جنہوں نے طویل عرصے تک جنگ کے سائے میں امن کا انتظار کیا اور مشکلات کا سامنا کیا۔
اس تقریب میں جنوبی ایشیا کے نوجوان فلم سازوں کو دستاویزی فلمیں بنانے کی تربیت دی گئی، جس میں پاکستان کی معروف فلم ساز انعم عباس نے بھی بطور ٹرینر حصہ لیا۔













