مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے باعث جہاں کئی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنریٹو اے آئی ٹولز انسانوں کی سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں وہیں اب ایک ایسا منفرد اے آئی ٹیوٹر متعارف کرا دیا گیا ہے جو بچوں کو رٹے لگانے کے بجائے سوچنے، سوال کرنے اور مسئلے کو سمجھ کر حل تلاش کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ہماری تحریر کا قدرتی اور منفرد انداز چھین تو نہیں رہی؟
تعلیمی پلیٹ فارم برلینٹ کی بانی سو کھم نے دنیا کے پہلے اے آئی گرافیکل ٹیوٹر ’کوجی‘ کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی بچوں کو ذہین بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے نہ کہ انہیں صرف تیار شدہ جوابات پر انحصار کرنے کا عادی بنانے کے لیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اے آئی بچوں کو کمزور بنا رہا ہے جبکہ اسے انہیں ذہین بنانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوجی پہلا ایسا اے آئی ٹیوٹر ہے جو بچوں کو واقعی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
کوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ’سقراطی طریقہ تدریس‘ کے تحت تیار کیا گیا ہے جس میں بچوں کو براہ راست جواب دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ خود مسئلے کو سمجھیں اور حل تک پہنچیں۔
اس طریقہ کار سے طلبہ میں تنقیدی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارت فروغ پاتی ہے جبکہ وہ جواب دینے والے روایتی اے آئی ماڈلز پر کم انحصار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟
یہ جدید ٹیوٹر والدین کو بھی سہولت دیتا ہے کہ وہ بچوں کی کارکردگی کو حقیقی وقت میں دیکھ سکیں گراف اور نوٹس پر تبصرہ کر سکیں اور بچے کی پیشرفت کے مطابق اسباق میں تبدیلی لا سکیں۔
کوجی میں ’اسپیک فرسٹ‘ حکمت عملی بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت یہ ہر سبق کے آغاز میں خود گفتگو شروع کرتا ہے تاکہ طالب علم کی مشکلات کو فوری طور پر سمجھ کر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
اس کا انٹرفیس بھی روایتی چیٹ بوٹس سے مختلف ہے اور اسے ایک کردار پر مبنی دوستانہ انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ بچوں کے لیے سیکھنے کا عمل زیادہ دلچسپ اور مؤثر بن سکے۔
فی الحال کوجی برلینٹ کے بیشتر ریاضی اور کوڈنگ کورسز میں دستیاب ہے جبکہ مستقبل میں اسے اسکول کے اسائنمنٹس کی معاونت اور متعدد زبانوں کی جدید سہولیات سے مزید بہتر بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: اے آئی کو جھانسا: آنکھوں کی ایک فرضی بیماری کو حقیقی سمجھ کر چیٹ بوٹس طبی مشورے دینا شروع
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی اپنے دعوؤں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہی تو یہ بچوں کی تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔













