بنگلادیش نے دنیا کے سب سے بڑے ساحلی جنگل، سندر بنز کو جنگلی حیات، مچھلیوں کی نسل بڑھانے اور قدرتی حیات کے تحفظ کے سالانہ اقدامات کے تحت یکم جون سے 31 اگست تک تین ماہ کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
سخت پابندی کے تحت سیاحوں، ماہی گیروں، شہد جمع کرنے والوں اور لکڑہاروں کے جنگل میں داخلے پر مکمل پابندی ہوگی کیونکہ یہ وقت اس حساس ماحولیاتی خطے میں مچھلیوں، جنگلی حیات اور پودوں کی افزائشِ نسل کا اہم ترین سیزن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینٹ مارٹن جزیرہ کا ماحولیاتی تحفظ، بنگلہ دیش کا سیاحت محدود کرنے کا فیصلہ
محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق اس سالانہ پابندی کا مقصد مچھلیوں کے انڈے دینے، جنگلی حیات کی افزائش اور بیجوں کے اگنے کے لیے ایک پرسکون اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، جس کے دوران کسی کو بھی داخلے کا اجازت نامہ جاری نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ جنگلات کے نگران عمران حسین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سندر بنز کے نازک ماحولیاتی نظام کو بچانے اور اس کے قدرتی وسائل کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کے لیے یہ پابندی انتہائی ضروری ہے۔
حکام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سیاحت اور جنگلاتی سرگرمیوں سے جڑی کشتیوں کی آمد و رفت اکثر افزائشِ نسل کے سیزن کے دوران جنگلی حیات کے مسکن کو متاثر کرتی ہے، اس لیے تین ماہ تک انسانی سرگرمیوں کو روکنے سے ماحولیاتی توازن مضبوط ہوگا اور مچھلیوں، جنگلی حیات اور نباتات کی آبادی میں اضافہ ہوگا۔
تاہم اس بندش سے ساحلی علاقوں کے ان ہزاروں رہائشیوں کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن کا روزگار مکمل طور پر اس جنگل سے وابستہ ہے، اور ماہی گیروں، کیکڑے پکڑنے والوں، شہد اور لکڑی جمع کرنے والوں نے اس پابندی کے دوران آمدنی کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش، کھیت سے ملنے والے اژدھے کی جنگل میں محفوظ منتقلی
مقامی ماہی گیروں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس بندش کے دوران انہیں مالی امداد اور متبادل مدد فراہم کی جائے، جبکہ سیاحتی آپریٹرز اور کشتیوں کے مالکان نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس شعبے کے ملازمین کو تین ماہ تک بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات اور محکمہ ماہی گیری اس تحفظاتی مدت کے دوران سندر بنز پر انحصار کرنے والی برادریوں کے لیے امدادی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سالانہ پابندی کو سندر بنز کی مچھلیوں، جنگلی حیات کی آبادی اور جنگلاتی وسائل کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم ماحولیاتی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔













