یوٹیوب نے اپنے پریمیم سبسکرپشن کے تحت پوڈکاسٹ سامعین کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نئی سہولیات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد مواد کی تلاش، سمجھ اور استعمال کے تجربے کو مزید آسان اور مؤثر بنانا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچرز ابتدائی طور پر منتخب یوٹیوب پریمیم صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے جبکہ بعد ازاں انہیں مرحلہ وار مزید صارفین تک توسیع دی جائے گی۔ یوٹیوب نے بتایا کہ اپریل 2026 کے دوران پریمیم صارفین نے 80 کروڑ گھنٹوں سے زائد پوڈکاسٹ مواد دیکھا جو پلیٹ فارم پر اس طرز کے مواد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرح خان کی یو ٹیوب آمدن زیادہ ہے یا فلم سے کمائی، بالی ووڈ ہدایت کار کا انکشاف
نئے فیچرز میں ایک اہم اضافہ ’کانورسیشنل سرچ‘ ٹول ہے جس کے ذریعے صارفین قدرتی زبان میں سوالات پوچھ کر ویڈیوز اور پوڈکاسٹس سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے۔ اس سہولت کے ذریعے لمبے ایپی سوڈز میں مخصوص موضوعات، خلاصے یا اہم حصے باآسانی تلاش کیے جا سکیں گے۔
اسی طرح ’آن دی گو موڈ‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا نیا فیچر ایسے صارفین کے لیے ہے جو سفر یا ورزش کے دوران مواد دیکھتے ہیں۔ اس موڈ میں سادہ انٹرفیس، کم ڈسٹرکشن اور بڑے پلے بیک کنٹرولز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ استعمال زیادہ آسان بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ایلون مسک یو ٹیوب کو ٹکر دینے کے لیے نئی ایپ لانچ کرنے جا رہے ہیں؟
یوٹیوب نے ‘Ask Music’ اے آئی ٹول کو بھی اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اسے مرکزی ایپ کا حصہ بنا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی پسند، مزاج یا دیکھنے کی عادات کی بنیاد پر ذاتی نوعیت کی پوڈکاسٹ اور ویڈیو سفارشات حاصل کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ پلیٹ فارم نے اے آئی سے تیار کردہ کمنٹ سمری فیچر بھی متعارف کرایا ہے جو بڑی تعداد میں آنے والے تبصروں کو مختصر کر کے اہم نکات کی صورت میں پیش کرے گا تاکہ صارفین کو مجموعی رائے سمجھنے میں آسانی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب اپلوڈنگ میں مسئلہ، کیا یہ حل ہوجائے گا؟
نئے اے آئی سسٹمز کی مدد سے یوٹیوب کی سفارشات کا نظام بھی مزید بہتر بنایا جا رہا ہے جو صارف کی دلچسپی، دیکھنے کی تاریخ اور رویے کی بنیاد پر متعلقہ پوڈکاسٹ اور ویڈیوز تجویز کرے گا۔
کمپنی کے مطابق یہ تمام اپ ڈیٹس صرف یوٹیوب پریمیم صارفین کے لیے دستیاب ہوں گی اور ابتدائی طور پر اینڈرائیڈ صارفین کو فراہم کی جائیں گی جبکہ آئی او ایس سپورٹ آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں
ماہرین کے مطابق یوٹیوب کا یہ اقدام اس وسیع رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز میں مصنوعی ذہانت کو تیزی سے شامل کر رہی ہیں تاکہ صارفین کو زیادہ ذاتی اور مؤثر تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
یوٹیوب اس وقت دنیا کے بڑے پوڈکاسٹ پلیٹ فارمز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ویڈیو اور آڈیو دونوں فارمیٹس میں مواد تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ان فیچرز کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتی رہے گی۔













