کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) نے تمام سرکاری اور نجی طبی اداروں کے لیے ایک حتمی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے بلا تنخواہ کام لینے پر سخت پابندی عائد کردی ہے۔
یہ اقدام فیلوشپ (ایف سی پی ایس) اور ایم سی پی ایس پروگراموں میں شامل ڈاکٹروں کے مالی اور پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: الخدمت ڈائگنوسٹک کا تاریخی سنگ میل: ایف سی پی ایس پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے لیے تسلیم شدہ قرار
یہ پہلا موقع نہیں کہ سی پی ایس پی نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہو۔ اس سے قبل بھی 24 برس قبل اسی نوعیت کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ متعدد ادارے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے ہفتے میں 60 گھنٹے تک کام کرواتے تھے، مگر انہیں کسی قسم کا معاوضہ یا مشاہرہ نہیں دیا جاتا تھا۔ بعض اداروں میں نشستوں کو جزوی طور پر تنخواہ دار اور جزوی طور پر بلا معاوضہ رکھا جاتا تھا، جس کے باعث امتیازی سلوک کی صورتحال پیدا ہوتی تھی۔
معروف طبی رہنما اور بابائے کراچی کے نام سے معروف پروفیسر نعمت اللہ خان نے اپنے دورِ نظامت میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (کے ایم ڈی سی) اور عباسی شہید اسپتال سمیت بڑے اداروں میں ہمیشہ میرٹ اور ڈاکٹروں کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا۔

جب ان کے سامنے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے بلا معاوضہ کام لینے کا مسئلہ رکھا گیا تو انہوں نے فوری طور پر اپنے زیر انتظام پوسٹ گریجویٹ اداروں، عباسی شہید اسپتال اور سوبھراج اسپتال میں اس اصول پر عملدرآمد کا حکم جاری کیا اور اس ضابطے کی سختی سے پابندی کی ہدایت بھی کی۔
بلا معاوضہ تربیت کو ڈاکٹروں کے ساتھ ناانصافی قرار
نعمت اللہ خان کا مؤقف تھا کہ ایک ڈاکٹر ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد مشکل مرحلوں سے گزر کر ایف سی پی ایس پارٹ ون پاس کرتا ہے، پھر مسابقتی امتحان میں کامیابی کے بعد پوسٹ گریجویٹ تربیت حاصل کرتا ہے۔ ایسے میں 4 سے 5 سال تک بغیر کسی تنخواہ کے خدمات انجام دینا اس کی صلاحیتوں کے ساتھ ناانصافی اور معاشرے کی جانب سے غیر مناسب رویہ ہے۔
انہوں نے اس امر کو یقینی بنایا کہ مشاہرہ صرف مستحق پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو ملے اور یہ سلسلہ تربیت مکمل کرنے والوں کے بعد آنے والے نئے ڈاکٹروں کے لیے بھی بطور استحقاق جاری رہے۔
خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
سی پی ایس پی نے واضح کیا ہے کہ جو اسپتال بلا تنخواہ یا اعزازی بنیادوں پر تربیت فراہم کریں گے، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی اور ان کی رجسٹریشن فوری طور پر معطل بھی کی جا سکتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ جو اسپتال یا میڈیکل کالج پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو مقررہ وظیفہ ادا نہیں کریں گے، وہ جولائی 2026 کے سیشن میں نئے ڈاکٹروں کو داخلہ دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔
وظیفے اور مشاہرے کی نئی شرح
سی پی ایس پی کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایف سی پی ایس، ایم سی پی ایس (فرسٹ فیلوشپ) کے لیے کم از کم ماہانہ وظیفہ ایک لاکھ 4 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گریڈ 17 کے مساوی ہے۔
سیکنڈ فیلوشپ کے لیے کم از کم ماہانہ وظیفہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔
پرانے بقایاجات کی ادائیگی بھی لازمی قرار
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسپتال پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے تمام سابقہ بقایاجات بھی ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔
علاوہ ازیں کسی بھی سرکاری یا نجی جامعہ کی جانب سے تربیت کے نام پر وصول کی جانے والی سالانہ یا ٹیوشن فیس کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کو غیر ادا شدہ نشستیں قبول نہ کرنے کی ہدایت
سی پی ایس پی کے رولز اینڈ ٹریننگ مانیٹرنگ سیل (آر ٹی ایم سی) کے مطابق ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ادارے میں غیر ادا شدہ نشست قبول نہ کریں کیونکہ ایسی تربیت رجسٹرڈ نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ملک میں 4 لاکھ کی آبادی کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات موجود ہے، صدر پی اے ایم ایچ
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ادارہ تربیت کے عوض فیس طلب کرے یا مقررہ تنخواہ اور وظیفہ ادا نہ کرے تو ڈاکٹر اس حوالے سے باضابطہ شکایت درج کروا سکتے ہیں۔














