جاگتے میں خواب دیکھنا یا خیالی پلاؤ پکانا اکثر تخلیقی صلاحیت، ذہنی سکون اور وقتی فرار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے لیکن جب یہی عادت انسان کو حقیقت کی دنیا سے کاٹ کر ایک ایسی خیالی کائنات میں لے جائے جہاں سے نکلنا مشکل ہو جائے تو اسے ’مال ایڈاپٹیو ڈے ڈریمنگ‘ کہا جاتا ہے جو ماہرین کے مطابق ایک پیچیدہ ذہنی کیفیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیادہ اور کم نیند دونوں خطرناک، ماہرین نے بہترین دورانیہ بتادیا
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کیفیت میں مبتلا افراد گھنٹوں اپنی تخیلاتی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں جہاں وہ مکمل کہانیاں، کردار، مکالمے اور واقعات تخلیق کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کہانیاں برسوں تک ذہن میں چلتی رہتی ہیں اور ان کا تسلسل کسی ڈراما سیریز یا فلمی کائنات کی طرح برقرار رہتا ہے۔
امریکی ماہر نفسیات اور محقق کولن راس کے مطابق عام خواب بینی انسانی ذہن کی ایک فطری اور مفید سرگرمی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان بیداری کے دوران اپنی ذہنی سرگرمی کا 30 سے 50 فیصد حصہ ایسے خیالات میں گزارتا ہے جو موجودہ لمحے کے کام سے متعلق نہیں ہوتے۔ یہ عمل تخلیقی سوچ، جذباتی توازن اور ہمدردی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
تاہم مال ایڈاپٹیو ڈے ڈریمنگ اس وقت مسئلہ بن جاتی ہے جب انسان اپنی خیالی دنیا پر اختیار کھو بیٹھے۔ ماہرین کے مطابق بعض افراد روزانہ 10 سے 12 گھنٹے تک اس کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں جس سے ان کی تعلیم، ملازمت، سماجی تعلقات اور ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے
اسرائیلی ماہر نفسیات ایلی سومر، جنہوں نے پہلی بار اس اصطلاح کو متعارف کروایا، کہتے ہیں کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے تخیل کو استعمال کرنے کے بجائے خود اس کے قابو میں آ جائے۔
متاثرہ افراد اکثر اپنی خیالی دنیا میں خود کو کامیاب، مقبول، بہادر یا دوسروں کی توجہ کا مرکز تصور کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت اکثر تنہائی، بچپن کے صدمات، جذباتی محرومی، ڈیپریشن، اضطراب، ’اٹینشن ڈیفِسِٹ ہائپر ایکٹیوٹی ڈس آرڈر‘ (توجہ برقرار رکھنے میں مشکل، بے چینی یا ضرورت سے زیادہ متحرک ہونا) اور ’آبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر‘ (بار بار ایک جیسے خیالات آنا اور ان ہی کے باعث ایک ہی کام کو بار بار دہرانا) جیسے مسائل سے جڑی ہوتی ہے۔
کئی متاثرہ افراد کے مطابق موسیقی سننا، ایک ہی جگہ بار بار چہل قدمی کرنا، جھولنا یا مخصوص جسمانی حرکات ان کے تخیلات کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ یہ عمل ایک نشے کی مانند ہو جاتا ہے جس سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کیفیت کے باعث لوگ حقیقی زندگی کے اہداف سے دور ہو سکتے ہیں کیونکہ خیالی دنیا میں کامیابی حاصل کرنا انہیں حقیقی جدوجہد سے زیادہ آسان محسوس ہوتا ہے۔
اگرچہ مال ایڈاپٹیو ڈے ڈریمنگ کو ابھی عالمی سطح پر باضابطہ ذہنی عارضے کے طور پر مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تاہم ابتدائی تحقیق حوصلہ افزا ہے۔
ماہرین کے مطابق نفسیاتی مشاورت، ذہنی یکسوئی کی مشقیں، روزمرہ معمولات میں مصروفیت، محرکات کی شناخت اور تخلیقی صلاحیتوں کو عملی اظہار دینا اس کیفیت پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ تخیل بذات خود مسئلہ نہیں بلکہ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی خیالی دنیا کا عادی ہو جائے اور حقیقت سے اس کا رشتہ کمزور پڑنے لگے۔














