پاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کا اعلان

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی ) نے پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے ایک شاندار بین الاقوامی موقع کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت محققین آسٹریا کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں اپنی تحقیق مکمل کر سکیں گے۔

ایچ ای سی کے باضابطہ اعلان کے مطابق اس اسکالرشپ پروگرام کے لیے سائنس، طب، انجینیئرنگ، فزکس، کیمسٹری اور کمپیوٹر انجینیئرنگ سمیت دیگر تمام متعلقہ شعبوں کے پی ایچ ڈی اسکالرز درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا بلوچستان کے طلبہ کے لیے 460 اسکالرشپس کا اعلان، اسکالر شپ کا طریقہ کار کیسے ہوگا؟

ایچ ای سی کی اس اسکیم کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ منتخب ہونے والے امیدواروں کو آسٹریائی تعلیمی اداروں میں ان کے تحقیقی کام کے پہلے 6 ماہ کے لیے ’مکمل مالی معاونت‘ فراہم کی جائے گی، جس سے اسکالرز کو مالی فکر سے آزاد ہو کر بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی تعلیمی اور تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا۔

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کے لیے درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 7 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

ایچ ای سی نے تمام باصلاحیت طلبہ اور محققین کو تلقین کی ہے کہ وہ کسی بھی آخری لمحے کے دباؤ یا تکنیکی دشواری سے بچنے کے لیے اختتامی تاریخ سے پہلے اپنے درخواست کے عمل کو لازمی مکمل کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان اور آسٹریا کے درمیان علمی تعاون اور تحقیقی روابط کو مزید مضبوط کرے گا، جس سے پاکستانی محققین کو بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں:پاکستان نے بنگلہ دیشی طلبہ کو 500 اسکالر شپس دینے کا اعلان کردیا

ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان گزشتہ 2 دہائیوں سے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور عالمی جامعات کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان اور آسٹریا کے تعلیمی تعلقات ہمیشہ سے انتہائی مضبوط رہے ہیں، جس کی واضح مثال ہری پور میں قائم ’پاک آسٹریا فخہوشولے‘ انسٹی ٹیوٹ ہے، جہاں آسٹریائی جامعات کے تعاون سے پاکستانی طلبہ کو جدید ترین تیکنیکی تعلیم دی جا رہی ہے۔

ماضی میں بھی ایچ ای سی کی جانب سے مختلف ممالک کے لیے ’شارٹ ٹرم ریسرچ گرانٹس‘ دی جاتی رہی ہیں، تاکہ وہ اسکالرز جو پاکستان میں وسائل کی کمی یا جدید لیبارٹریز نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تحقیق مکمل نہیں کر پاتے، وہ بیرونی ممالک کے جدید انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھا سکیں۔ آسٹریا کے تعلیمی ادارے خاص طور پر انجینئرنگ اور نیچرل سائنسز میں دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔

جدید لیبارٹریز اور ٹیکنالوجی تک رسائی

پاکستان میں فزکس، کیمسٹری اور کمپیوٹر انجینیئرنگ جیسے شعبوں میں بعض اوقات جدید ترین آلات یا سپر کمپیوٹرز تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ آسٹریا میں 6 ماہ کی مکمل مالی معاونت کے ساتھ تحقیق کرنے سے اسکالرز اپنے کام کو بین الاقوامی جرائد میں شائع کروانے کے قابل ہو سکیں گے۔

معاشی چیلنجز کے باوجود تعلیمی سرمایہ کاری

پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور تعلیمی بجٹ پر دباؤ کے باوجود، اس طرح کے اسکالرشپ پروگراموں کو جاری رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور ایچ ای سی انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

برین ڈرین کے بجائے ’برین گین‘

چونکہ یہ اسکالرشپ تحقیق کے ایک مخصوص حصے (پہلے 6 ماہ) کے لیے ہے، اس لیے یہ اسکالرز آسٹریا سے جدید ترین علم، نیٹ ورکنگ اور تجربہ حاصل کر کے واپس پاکستان لوٹیں گے، جس سے مقامی جامعات میں ریسرچ کلچر کو فروغ ملے گا۔

محققین کو چاہیے کہ وہ 7 جولائی کی آخری تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ریسرچ پروپوزل کو آسٹریائی پروفیسرز کی ضروریات کے مطابق تیار کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا

ملک میں گدھوں اور خچروں سمیت دیگر مویشیوں کی تعداد میں اضافہ

خیالی پلاؤ: جاگتے میں خواب دیکھنا ٹھیک لیکن لت خطرناک

ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال برقرار، مظفرآباد میں 3 جون کو آل پارٹیز کانفرنس طلب

9 اور 10 محرم الحرام کب؟ ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کردی

ویڈیو

ایم پی ایز نے بغاوت کردی، کیا سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں ہے؟

بھارت ایک بار پھر شوق پورا کرلے، افواج پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک