وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے طالبان کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی، طالبان کے مکس سگنلز پر اعتبار کرنا خطرناک ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ طالبان کی ٹاپ لیڈر شپ سے واضح بیان آنا چاہیے، کیوں کہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ہم نے افغان طالبان کی 40 سال تک میزبانی کی لیکن یہ ہمارے خلاف ہی استعمال ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہونے والے سہ فریقی معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے پاکستان کو نجی پیغامات کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پاکستانی حدود کے اندر حملوں سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت اسلام آباد کو اپنی سنجیدگی کا یقین دلانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو دور کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے افغانستان سے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔
افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پے درپے واقعات کے بعد مسلح افواج پاکستان نے آپریشن ’غضب للحق‘ کا آغاز کیا تھا، جس میں افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ اگر افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے ملک میں دہشتگردی کروائی جائےگی تو دہشتگردوں کو ہر جگہ بھرپور جواب دیا جائےگا۔














