پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سوشل میڈیا کارکنوں نے پشاور سے تعلق رکھنے والے کارکن فرید آفریدی کی مبینہ گمشدگی کے حوالے سے ایک مربوط مہم شروع کی ہے اور اسے ریاستی جبر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بیانیہ حقائق کو مسخ کرکے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے اور غیر ضروری غیر ملکی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی متعدد گمشدگیاں دراصل پی ٹی ایم کی جانب سے منظم انداز میں ترتیب دی جاتی ہیں، جبکہ بعد میں بعض افراد دہشتگردوں کے تربیتی مراکز میں یا دہشتگرد نیٹ ورکس کے سہولت کاروں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
پی ٹی ایم مقامی دہشتگردی کو نظر انداز کرتے ہوئے بیرونی بیانیوں کو فروغ دیتی ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے بجائے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
مبینہ گمشدگیوں کو منظم حکمت عملی قرار دینے کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق فرید آفریدی کی مبینہ گمشدگی ایک منصوبہ بند اور ڈرامائی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں پی ٹی ایم کی جانب سے لاپتا قرار دیے گئے افراد بعد ازاں دہشتگرد کیمپوں یا دہشتگرد نیٹ ورکس سے وابستہ پائے گئے۔
انسانی حقوق کے بیانیے کا استعمال
پی ٹی ایم کی جانب سے فوری طور پر بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی حکومتوں سے رجوع کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور بیرونی مداخلت کی راہ ہموار کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں یا مبینہ طور پر ترتیب دی گئی گمشدگیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرنا ریاستی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
تشدد کے معاملے پر دہرا معیار
پی ٹی ایم پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے، لیکن قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ہاتھوں پشتون عوام کے خلاف ہونے والے تشدد پر خاموش رہتی ہے۔ تنظیم کی ترجیحات پشتون عوام کے تحفظ کے بجائے ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہیں۔
بیرونی مفادات سے وابستگی
رپورٹ کے مطابق پشتونوں کی نمائندگی کے دعوے کے باوجود پی ٹی ایم بیرونی بیانیوں کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے، جس کی علامت بعض مواقع پر افغان پرچم کا استعمال ہے۔
تنظیمی قیادت مقامی سیکیورٹی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا بیانیہ فروغ دیتی ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو تقویت دیتا ہے۔
قانون کی حکمرانی کو متاثر کرنے کی کوشش
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم سرکاری تحقیقات یا شواہد سامنے آنے سے قبل ہی سیکیورٹی کارروائیوں کو ریاستی غنڈہ گردی قرار دیتی ہے، جس سے مبینہ طور پر مجرمانہ اور دہشتگرد عناصر کو قانونی احتساب سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔
کوئی بھی خودمختار ریاست سیاسی گروہوں کو قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور عوامی اشتعال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
علاقائی بدامنی پیدا کرنے کی منظم کوشش
رپورٹ کے مطابق فرید آفریدی سے متعلق بیانیہ ایک وسیع اور منظم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد خیبرپختونخوا میں نسلی تقسیم اور عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ریاستی سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسی پروپیگنڈا مہمات انہیں آئین و قانون کے نفاذ سے نہیں روک سکتیں۔














