آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں سمیت دیگر معاملات پر گفت و شنید کے لیے آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے شرکت سے انکار کردیا، جس کے بعد ان کے اصل عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور، اپوزیشن لیڈر و صدر ن لیگ شاہ غلام قادر کی میزبانی میں ہونے والی اے پی سی میں صدر پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری محمد یاسین، صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ سابق وزیراعظم راجا محمد فاروق حیدر، سابق صدور سردار یعقوب اور سردار مسعود خان بھی شریک ہوئے۔
سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس، صدر جموں و کشمیر پیپلز پارٹی سردار حسن ابراہیم، سیکریٹری جنرل مسلم لیگ ن چوہدری طارق فاروق نے بھی اے پی سی میں شرکت کی۔
اس کے علاوہ وزرا حکومت میاں عبدالوحید، جاوید اقبال بڈھانوی، قاسم مجید اور نبیلہ ایوب بھی اے پی سی میں شریک ہوئے۔ جبکہ ممبران اسمبلی عبدالماجد خان، احمد رضا قادری اور تقدیس گیلانی بھی اے پی سی میں شریک تھے۔
امیر جمیت علمائے اسلام مولانا سعید یوسف، لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر، چیئرمین علما مشائخ کونسل امتیاز صدیقی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوئے۔
جماعت اسلامی کے رہنما نور الباری، ایم ڈبلیو ایم کے صدر یاسر عباس نقوی، صدر سپریم کورٹ بار راجا آفتاب ایڈووکیٹ نے بھی اے پی سی میں شرکت کی۔
قاضی محمود الحسن اشرف، دانیال شہاب سمیت دیگر جماعتوں کے زعما بھی اے پی سی میں شریک ہوئے، جہاں ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی کال کے تناظر میں وسیع تر مشاورت کی گئی۔
دوسری جانب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت سے انکار کر دیا، جس کے بعد اس کے اصل عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اب صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے، ایکشن کمیٹی کا طرزِ عمل اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ وہ خطے میں استحکام کے بجائے سیاسی اور انتظامی بے چینی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں کسی کو ہنگامہ آرائی کرنے کی اجازت نہ دے۔














