امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے آئندہ صدارتی انتخابات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور دور رس سیاسی اشارہ دے دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کے 2 نمایاں ترین رہنما، جے ڈی وینس اور مارکو روبیو، سال 2028 کے صدارتی انتخابات میں ایک ساتھ مشترکہ ٹکٹ پر میدان میں اتریں تو وہ ایک انتہائی مضبوط، مربوط اور کامیاب انتخابی اتحاد ثابت ہو سکتے ہیں، جسے شکست دینا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
پوڈ فورس ون‘ میں ٹرمپ کا اہم انکشاف
بدھ کو ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ریپبلکن رہنماؤں کی سیاسی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کی۔
ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر جے ڈی وینس اور مارکو روبیو مل کر انتخابی مہم چلائیں تو سیاسی میدان میں ان کا مقابلہ کرنا مخالفین کے لیے انتہائی مشکل اور کٹھن ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مجوزہ معاہدہ: ٹرمپ کی حتمی منظوری تاحال باقی، جوہری نکات پر مذاکرات جاری، سی این این کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’میں دونوں کو پسند کرتا ہوں اور مجھے یہ بات بھی بے حد پسند ہے کہ وہ ایک ساتھ ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگر وہ ایک ساتھ ہوں تو انہیں کیسے شکست دی جا سکتی ہے‘۔
مستقبل کا فیصلہ اور صدارتی امیدوار کی گتھی
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ اس ممکنہ اتحاد اور انتخابی ٹکٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ ان دونوں رہنماؤں کو خود ہی کرنا ہوگا، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے مابین تعلقات انتہائی خوشگوار اور بہترین ہیں۔
امریکی صدر نے فی الحال اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا کہ اگر یہ طاقتور اتحاد بنتا ہے تو صدارتی امیدوار کون ہوگا؟ اور نائب صدر کے عہدے کے لیے کس کا انتخاب کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو دونوں کو ہی 2028 میں ریپبلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے، اگرچہ دونوں میں سے کسی نے بھی ابھی تک باضابطہ طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں کیا۔
مارکو روبیو کی دستبرداری کا اشارہ اور عوامی مقبولیت
54 سالہ مارکو روبیو ماضی میں اپنے سیاسی پتے صاف کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اگر جے ڈی وینس صدارتی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں، تو وہ خود صدارت کے امیدوار نہیں بنیں گے۔ انہوں نے وینس کو اپنا انتہائی قریبی اور مخلص دوست بھی قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں:ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
حالیہ عوامی سرویز کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو ریپبلکن ووٹرز کے درمیان جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کی مقبولیت کا گراف تقریباً برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ مبصرین ان دونوں کو پارٹی کے مستقبل کے سب سے نمایاں چہرے قرار دے رہے ہیں۔
مارکو روبیو کی بڑھتی ہوئی سفارتی پذیرائی
گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران مارکو روبیو نے ایران، کیوبا اور چین جیسے انتہائی حساس اور پیچیدہ بین الاقوامی معاملات پر جس اعتماد کے ساتھ صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے، اس پر انہیں امریکی سیاسی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی۔
مبصرین کے مطابق مارکو روبیو نے سنگین موضوعات پر انتہائی پُرسکون اور نپا تلا انداز اپنایا جبکہ گفتگو کے دوران ہلکے پھلکے مزاح کا عنصر شامل رکھ کر سب کے دل جیت لیے۔
صدر ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کے بعد امریکا میں 2028 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور جوڑ توڑ کی سیاست میں تیزی آئے گی اور ریپبلکن پارٹی کے اندر آئندہ کی قیادت اور اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے بحث مزید گرم ہو جائے گی۔














