ناران میں سیاحوں کی غیر معمولی آمد کے باعث ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر بھر جانے سے آنے والے سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق ناران میں ان دنوں سیاحوں کا رش غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے جس کے باعث تمام ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور نئے آنے والے سیاحوں کو رہائش کے حصول میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
ناران میں لوٹ مار اپنے عروج پر ہے
یہ مرغیوں والا کیبن ہمیں ایک رات کے لیے 8 ہزار میں مل رہا تھا کافی بحث کر کرا کے بمشکل 5 ہزار میں ملا
مجبوری سے فائدہ اٹھانا کوئی پاکستانیوں سے سیکھے pic.twitter.com/YYR8tIxBos— صحرانورد (@Aadiiroy2) June 3, 2026
ایک سیاح کے مطابق انہیں طویل تلاش کے بعد ایک کمرہ ملا جو ٹین شیڈ (عارضی شیلٹر) پر مشتمل تھا جس کے لیے 5 ہزار روپے کرایہ ادا کرنا پڑا جبکہ ابتدائی طور پر اس کی قیمت 8 ہزار روپے طلب کی جا رہی تھی۔
سیاح نے مزید بتایا کہ شدید سرد موسم میں فراہم کیے گئے کمبل ناکافی تھے جبکہ بنیادی سہولیات خصوصاً واش روم کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحی تعطیلات: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر ریکارڈ رش، 11 لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد
سیاحوں نے صورتحال کے پیش نظر دیگر افراد کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں ناران کا رخ نہ کریں اور اگر سفر کرنا ہی ہو تو کشمیر، مری یا دیگر نسبتاً بہتر سہولیات والے سیاحتی مقامات کا انتخاب کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بابوسر ٹاپ روڈ بھی بند ہے اور اگر پھر بھی سفر کرنا چاہتے ہیں تو اپنی ذمہ داری پر کریں۔














