سنگاپور میں مچھروں کو ہی مچھروں کے خلاف استعمال کرنے کا حیران کن منصوبہ

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سنگاپور میں مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ڈینگی جیسے مہلک امراض پر قابو پانے کے لیے ایک غیر معمولی اور سائنسی بنیادوں پر تیار کیا گیا پروگرام جاری ہے جس کے تحت ہر ہفتے لاکھوں مچھر ماحول میں چھوڑے جا رہے ہیں۔

اگرچہ یہ اقدام بظاہر حیران کن لگتا ہے تاہم حکام کے مطابق یہ مچھروں کی آبادی کم کرنے کی ایک جدید حکمتِ عملی ہے نہ کہ اسے بڑھانے کا طریقہ۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by CNA (@channelnewsasia)

اس پروگرام کے تحت صرف نر (male) ایڈیز مچھر چھوڑے جاتے ہیں کیونکہ مادہ مچھر ہی انسانوں کو کاٹتی اور بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ ان نر مچھروں میں قدرتی طور پر پایا جانے والا بیکٹیریا وولباچیا (Wolbachia) شامل کیا جاتا ہے۔

جب یہ نر مچھر جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کرتے ہیں تو ان کے پیدا کردہ انڈے نشوونما نہیں پا سکتے جس کے نتیجے میں مچھروں کی اگلی نسل پیدا نہیں ہوتی۔ اس طرح وقت کے ساتھ مچھروں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

وولباچیا ایک قدرتی بیکٹیریا ہے جو مختلف کیڑوں میں پایا جاتا ہے اور انسانوں یا جانوروں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ ایڈیز ایجپٹائی مچھر، جو ڈینگی، زیکا اور چکن گونیا جیسی بیماریوں کا بنیادی ذریعہ ہیں قدرتی طور پر اس بیکٹیریا سے محروم ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق جب یہ بیکٹیریا مچھروں میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ وائرس کو مچھر کے جسم میں بڑھنے سے روکتا ہے جس سے بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

رپورٹس کے مطابق مچھروں کی افزائش کے عمل میں جدید مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام استعمال کیا جاتا ہے جو ہر مچھر کی خودکار شناخت کرتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے نر اور مادہ مچھروں کی الگ الگ چھانٹی کی جاتی ہے تاکہ صرف نر مچھروں کو ہی ماحول میں چھوڑا جائے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس منصوبے کے بعد سنگاپور کے بعض علاقوں میں مچھروں کی تعداد میں 90 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم ابتدائی مرحلے میں شہریوں کو عارضی طور پر مچھروں کی زیادہ موجودگی محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ آبادی میں کمی کا اثر مکمل طور پر ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ طریقہ دنیا بھر میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر اور جدید سائنسی حل ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp