آزاد کشمیر میں آئندہ دنوں متوقع احتجاجی تحریک اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی لانگ مارچ کال کے پیش نظر حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک غیر معمولی سیکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے مجموعی طور پر 14 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی سفارش کرتے ہوئے وفاق سے فوری معاونت طلب کر لی ہے۔
مجوزہ پلان کے تحت وفاقی سطح پر مختلف فورسز سے بھاری نفری طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں تقریباً 6 ہزار اہلکار فرنٹیئر کانسٹبلری اور 5 ہزار پاکستان رینجرز کے اہلکار شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے، انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ
اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس اور سندھ پولیس کی اضافی نفری بھی آزاد کشمیر میں تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سیکیورٹی پلان کے مطابق مجموعی نفری کا 60 فیصد حصہ اینٹی رائٹ سامان اور آنسو گیس کے ساتھ تعینات کرنے کی تجویز ہے تاکہ ممکنہ لانگ مارچ یا احتجاجی صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے، جبکہ 40 فیصد اہلکاروں کو اسلحہ اور ایمونیشن کے ساتھ حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق 7 جون سے 21 جون تک خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ 9 جون کے لانگ مارچ سے قبل سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر اہم پیشرفت، آئینی و قانونی مؤقف سامنے آگیا
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر رینجرز، ایف سی اور پولیس کی مشترکہ تعیناتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ بعض حساس علاقوں میں ایلیٹ کمانڈوز کو خصوصی یونیفارم میں تعینات کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
حکومت آزاد کشمیر نے صورتحال کے پیش نظر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری اضافی نفری کی فراہمی کی درخواست کر دی ہے۔














