بلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جس کا مجموعی حجم 1100 ارب روپے سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی یہ بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کریں گے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے تاریخی ریلیف، فکس ٹیکس اسکیم کا اعلان
محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں تعلیم، صحت، امن و امان، بنیادی عوامی خدمات اور فلاحی منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
تعلیم کے شعبے کے لیے 150 ارب روپے سے زیادہ فنڈز مختص کیے جانے کی تجویز ہے، جو تمام شعبوں میں سب سے بڑا حصہ ہوگا۔ اس کے علاوہ صحت کے شعبے، انسانی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی خطیر رقوم مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں وفاقی حکومت کی طرز پر اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ بجٹ کو سرپلس رکھنے کی حکمت عملی بھی اپنائی جا رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کا امکان نہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔ نوجوانوں کے لیے نوکریوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے اس کے علاوہ اسکالر شپ سمیت دیگر امور بجٹ کا حصہ ہوں گے۔
دوسری جانب گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نوجوانوں کی فلاح، روزگار اور ہنر مندی کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمنٹرینز سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہاکہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے پیش نظر نوجوانوں کے لیے ایک نیا روزگار پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں نوجوانوں کو باعزت روزگار اور جدید کیریئر کے مواقع حاصل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: کوشش ہے عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہ لگائیں، 10 جون کو بامقصد بجٹ پیش کیا جائےگا، وزیر خزانہ
انہوں نے بتایا کہ بولان میڈیکل یونیورسٹی میں 10 سے زیادہ نئے میڈیکل کورسز اور ڈپلومہ پروگرامز شروع کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر سرکاری جامعات میں بھی جدید مہارتوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، پروفیشنل ٹریننگ اور طبی تعلیم سے متعلق پروگراموں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔












