مکہ مکرمہ کی مایہ ناز اور تاریخی درسگاہ ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ کے کلچرل فرنٹ نے دنیا بھر سے آنے والے حجاج کرام اور عمرہ زائرین کے سفر اور تجربے کو مزید سہل، معلوماتی اور یادگار بنانے کے لیے ایک جدید ’ڈیجیٹل کلچرل منصوبے‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد جدید ترین ٹیکنالوجی اور انٹرایکٹو میڈیا کی مدد سے زائرین کو حج و عمرہ کے مناسک کے ساتھ ساتھ مملکت کے تعلیمی، تاریخی اور اسلامی ورثے سے جوڑنا ہے۔
جدید ڈیجیٹل ٹولز اور کثیر اللسانی پلیٹ فارم
یونیورسٹی حکام کے مطابق یہ منصوبہ دنیا بھر کی متعدد بڑی زبانوں میں دستیاب ہوگا تاکہ لسانی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے زائرین کو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مملکت کے دیگر اہم اسلامی و تاریخی مقامات کے بارے میں بالکل درست، مستند اور تحقیق شدہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
منصوبے میں تھری ڈی ماڈلز، آڈیو گائیڈز اور اینیمیشنز پر مبنی انٹرایکٹو میڈیا کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی بدولت دنیا بھر سے آنے والے زائرین سعودی عرب کے ثقافتی اور اسلامی پس منظر کو گہرائی سے سمجھ سکیں گے۔
حج و عمرہ خدمات میں ٹیکنالوجی کا فروغ
مکہ مکرمہ کے انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سعودی حکومت کی جانب سے حج و عمرہ کی خدمات میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کو ضم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
اس منصوبے کا مقصد روایتی معلوماتی طریقوں کو بدل کر ایک ایسا ’اسمارٹ ایکو سسٹم‘ بنانا ہے جہاں زائرین اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے ایک کلک پر تمام تاریخی حقائق تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس سے نہ صرف حجاج کے وقت کی بچت ہوگی بلکہ انہیں مقامات کی زیارت کے دوران ان کی اصل تاریخی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔
سعودی وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل
یہ جدید ترین ڈیجیٹل منصوبہ سعودی عرب کے اسٹریٹجک پروگرام ’سعودی وژن 2030‘ کے اہداف کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
وژن 2030 کا ایک بڑا مقصد زائرینِ حرم کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو عالمی سطح پر لے جانا، بین الثقافتی رابطوں اور تبادلے کو فروغ دینا، اور عالمی سطح پر مملکت کی ایک نرم اور ترقی پسند شبیہ کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیں:مدینہ منورہ: عمرہ زائرین میں 2 لاکھ 40 ہزار قرآن پاک کے نسخوں کی تقسیم
یہ منصوبہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح مملکت اپنے مذہبی شعائر کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدت کی راہ پر گامزن ہے۔
علمی اور تعلیمی اداروں کا کلیدی کردار
ام القریٰ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ دورِ حاضر میں تعلیمی ادارے محض تدریس تک محدود نہیں رہ سکتے، بلکہ وہ علم اور ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے عالمی برادری کے لیے ایک جامع ثقافتی تجربہ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یونیورسٹی کا یہ اقدام نہ صرف قومی ترقی کے اعلیٰ اہداف کی حمایت کرتا ہے، بلکہ مکہ مکرمہ آنے والے لاکھوں مسلمانوں کو ایک ایسا ڈیجیٹل گائیڈ فراہم کرتا ہے جو انتہائی سہل اور جدید طریقے سے تاریخ کے گمشدہ اوراق کو ان کے سامنے روشن کر دیتا ہے۔














