انٹرنیٹ پر ایک غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوے کے وائرل ہونے کے بعد بھارت میں خواتین خصوصاً غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں صارفین نے عوامی مقامات پر ہراسانی کے واقعات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:غیر ملکی خاتون سیاح کا گینگ ریپ: بھارت خواتین کے لیے غیرمحفوظ ملک بن گیا
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک ویڈیو اور دعوے کے مطابق ایک نوجوان جنوبی کوریائی شخص نے یہ جانچنے کے لیے کہ آیا بھارت خواتین کے لیے محفوظ ملک ہے، مبینہ طور پر خود کو ایک حاملہ اور کم پرکشش عورت کے بھیس میں پیش کیا اور ملک کے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ وائرل دعوے میں کہا گیا ہے کہ اس دوران اسے عوامی مقامات پر متعدد افراد کی جانب سے بار بار ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
🚨Shocking CCTV from Manali, Himachal Pradesh (June 4, 2026).
A man in a white shirt brazenly harasses a foreign female tourist in broad daylight on a busy street. This is exactly why many foreigners are now avoiding India. @himachalpolice @TourismHimachal
Identify and…
— Gully Ka Gunda (@gullykagunda) June 4, 2026
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ برسوں کے دوران بھارت میں غیر ملکی سیاحوں، بالخصوص خواتین کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ہراسانی اور جنسی زیادتی کے چند واقعات بھی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث رہے ہیں، جنہوں نے ملک میں سیاحت اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کو وقتاً فوقتاً جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد اس مبینہ تجربے کو بھارت میں عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ کے مسئلے کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔













