برطانوی وزیراعظم کے دفتر ڈاؤننگ اسٹریٹ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے جس میں انہوں نے برطانوی نوجوان ہنری نوواک کے قتل کا ذمہ دار تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کو قرار دیا تھا۔
ہنری نوواک گزشتہ سال دسمبر میں ساؤتھمپٹن میں چاقو کے وار سے قتل کردیے گئے تھے۔ انہیں وکرم ڈگوا نامی شخص نے نشانہ بنایا تھا، جس نے بعد ازاں نوجوان طالب علم پر نسلی تعصب پر مبنی حملے کا جھوٹا الزام بھی عائد کیا تھا۔
اس الزام کے نتیجے میں پولیس نے ابتدائی طور پر دم توڑتے ہوئے ہنری نوواک کو ہی ہتھکڑیاں لگا دی تھیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہاکہ ہنری نوواک آج زندہ ہوتے اگر گزشتہ چند نسلوں کے یورپی اشرافیہ طبقے نے خود سے نفرت پر مبنی سیاست اور تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر یلغار کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہوتا، جن میں سے بہت سے مغرب اور اس سے محبت کرنے والوں سے نفرت کرتے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے جے ڈی وینس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی جمہوریت میں مداخلت اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ترجمان نے خبردار کیاکہ ایسے بیانات ہماری جمہوریت میں مداخلت کرنے اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کے مترادف ہیں۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقتول کے اہل خانہ، جو اپنے بیٹے کے ہولناک قتل کے غم سے گزر رہے ہیں، واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہنری نوواک کی موت کو مزید نفرت، کشیدگی یا معاشرتی تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
ترجمان نے کہاکہ ہمیں ان کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ ہماری سیاست کو انتہائی المناک حالات میں بھی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا چاہیے، نہ کہ انہیں تقسیم کرنا چاہیے۔














