کالعدم ایکشن کمیٹی کی حقیقت کھلنے لگی، بھارت کے ساتھ تعلق ثابت، عام آدمی کو استعمال کیا جانے لگا

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی صحافی اور تجزیہ کار ادتیہ راج کول ایک ایسے واٹس ایپ گروپ کے رکن ہیں جس میں برطانیہ میں مقیم عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی تارکینِ وطن شامل ہیں۔

مذکورہ واٹس ایپ گروپ میں پاکستان مخالف بیانیے اور مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ ادتیہ راج کول نہ صرف اس گروپ کا حصہ ہیں بلکہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے ڈیجیٹل اثاثے کے طور پر کام کررہے ہیں۔

یہ حقیقت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پاکستان سے متعلق بیانیوں اور معلوماتی مہمات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے زیادہ مطالبات مانے جانے کے باوجود احتجاج پر بضد ہے، جس کے خلاف حکومت آزاد کشمیر نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

آج مظفرآباد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تنظیم کا مرکزی دفتر بھی سیل کردیا، جہاں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش، معاملے کے پرامن حل کے لیے شہباز شریف سے ملاقات کا فیصلہ

امریکی جاسوسی قانون میں توسیع کی ڈیڈ لائن قریب، انٹیلیجنس ڈیٹا جمع کرنے میں بڑے تعطل کا انتباہ جاری

آزاد کشمیر، کالعدم ایکشن کمیٹی کے گرد گھیرا تنگ، مرکزی دفتر سیل کردیا گیا

یوکرین کا چرنوبل کے قریب جوہری ایندھن کے اسٹوریج پر روسی ڈرون حملے کا دعویٰ

خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے دوران بہادری دکھانے والے وارڈ بوائے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کا ٹیلیفونک رابطہ، ایوارڈ کا اعلان

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: شہری دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے نکل پڑے

لائیوگلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

پھلوں کے بادشاہ کی آمد، خوشبو سے بازار مہک اٹھے

کالم / تجزیہ

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ