سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم عبدالمنان کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی برقرار رکھی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی ہے کہ جرمانے کی رقم ہر صورت وصول کی جائے اور اس مقصد کے لیے مجرم کی جائیداد کا ریکارڈ چیک کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: تیزاب گردی کی شکار ڈاکٹر ماہ نور کی حالت اب کیسی ہے؟
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 4 ستمبر 2019 کو فیصل آباد میں پیش آیا، جب مجرم عبدالمنان نے باورچی خانے میں کام کے دوران ایک خاتون پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں خاتون کا چہرہ اور جسم کے دیگر حصے بری طرح جھلس گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سفارش کی ہے کہ تیزاب گردی کا شکار افراد کو خصوصی افراد کے زمرے میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈز قائم کیے جائیں۔
عدالت نے سفارش کی کہ متاثرین کی سرجری، جسمانی و نفسیاتی بحالی، تھراپی اور علاج معالجے کے لیے مستقل بنیادوں پر مالی وسائل مختص کیے جائیں اور ان کی تاحیات معاونت کو یقینی بنایا جائے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تیزاب کی فروخت کو سخت ضابطوں کے تحت لائیں، تیزاب خریدنے والوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے اور اس کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: ناکام عاشق خود کو مارکر تاریخ میں نام کرلیتا، تیزاب گردی کیس میں جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس
یہ تحریری فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا، جبکہ 3 رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔
عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی نقول تمام ہائیکورٹس، سیکریٹری قانون، قانون و انصاف کمیشن، صوبائی محکمہ جاتِ قانون، اٹارنی جنرل پاکستان اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو ارسال کی جائیں تاکہ فیصلے میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔














