اگر آپ کا کتا یا بلی حالیہ دنوں میں غیر معمولی طور پر خود کو کھجا رہے ہیں، آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے یا بار بار پنجے چاٹ رہے ہیں تو ممکن ہے وہ بھی کسی الرجی کا شکار ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل: پالتو جانور بھی خاندان کا حصہ قرار، علیحدہ ہونے والے جوڑوں کو مشترکہ ملکیت کا حق
ماہرین کے مطابق پالتو جانور بھی انسانوں کی طرح پولن، گردوغبار، خوراک، پسوؤں اور دیگر ماحولیاتی عوامل سے الرجی کا شکار ہو سکتے ہیں تاہم اس کی تشخیص اکثر ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں میں الرجی کی عام علامات جیسے چھینکیں اور ناک بہنا پالتو جانوروں میں نسبتاً کم دیکھی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس کتوں اور بلیوں میں الرجی عموماً جلد کے مسائل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جس کے باعث وہ مسلسل جسم کے مخصوص حصوں، خصوصاً پنجوں، کانوں یا جلد کو چاٹتے، کاٹتے یا کھجاتے رہتے ہیں۔
امریکا کی کارنیل یونیورسٹی سے وابستہ ویٹرنری ماہر برائن کولنز کے مطابق مسلسل خارش جلد پر سرخ اور سوجن زدہ دھبوں یا زخموں کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو بعد میں بیکٹیریا یا خمیر کے انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر خارش یا جلدی مسئلہ لازمی طور پر الرجی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جلدی انفیکشن، پسوؤں یا جلدی کیڑوں کے حملے یا دیگر بیماریوں کی علامات بھی الرجی سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے جانوروں کے معالج عموماً پہلے ان ممکنہ وجوہات کو خارج کرتے ہیں۔
ماہرین نے سوشل میڈیا پر فروخت ہونے والے پالتو جانوروں کے نام نہاد الرجی ٹیسٹوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے تجارتی ٹیسٹ قابل اعتماد نہیں اور بعض تجربات میں کھلونوں کے نمونوں پر بھی وہی نتائج سامنے آئے جو حقیقی جانوروں پر حاصل ہوئے تھے۔
علاج کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے جانور کی خارش اور تکلیف کو کم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انجیکشنز، ادویات، شیمپو اور اسپرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جدید ادویات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: پالتو جانوروں کو گھر پر اکیلا چھوڑنا دشوار، مصنوعی ذہانت نے یہ مشکل بھی حل کردی
اگر علامات مسلسل برقرار رہیں تو جانوروں کے ماہر جلدی امراض (ویٹرنری ڈرماٹولوجسٹ) تفصیلی الرجی ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اس عمل میں جانور کی جلد پر مختلف الرجی پیدا کرنے والے مادوں کے نمونے لگا کر ردعمل کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں ’امیونوتھراپی‘ کے ذریعے جانور کے جسم کو مخصوص الرجی پیدا کرنے والے مادوں کا عادی بنایا جاتا ہے جس سے وقت کے ساتھ علامات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ نسبتاً مہنگا اور طویل المدت ہوتا ہے لیکن بہت سے جانوروں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پالتو جانوروں میں الرجی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین اس کی وجوہات میں بدلتا طرز زندگی، زیادہ پراسیس شدہ خوراک، گھروں کے اندر زیادہ وقت گزارنا اور خوشبو دار مصنوعات کا بڑھتا استعمال شامل قرار دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کتوں میں انسانوں کی جلد سے جھڑنے والے ذرات (ہیومن ڈینڈر) سے بھی الرجی کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق چونکہ آج کل پالتو جانور پہلے کے مقابلے میں اپنے مالکان کے زیادہ قریب رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کے بستروں میں بھی سوتے ہیں اس لیے ایسے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: ’ہم بھی فیشن کریں گے‘، ادیداس نے پالتو جانوروں کی سن لی، ماڈرن کلیکشن متعارف
ویٹرنری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پالتو جانور میں مسلسل خارش، آنکھوں سے پانی آنا، کانوں کے مسائل یا جلدی زخموں جیسی علامات ظاہر ہوں تو جلد از جلد معالج سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج جانور کو طویل تکلیف سے بچا سکتا ہے۔














