سندھ کے وزیر قانون، داخلہ و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار کی ہدایات پر پروسیکیوٹر جنرل سندھ بیرسٹر جی شبیر شاہ نے ایک جامع سرکلر جاری کیا ہے، جس کا مقصد استغاثہ کے نظام کو مضبوط بنانا، چالانوں کی جانچ پڑتال کو مؤثر بنانا، پروسیکیوٹرز کی آزادانہ قانونی رائے کو یقینی بنانا اور صوبے میں فوجداری نظامِ انصاف کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
سرکلر میں قبل از مقدمہ اور دورانِ مقدمہ مراحل میں محکمہ استغاثہ کی قانونی نگرانی اور اختیار کی دوبارہ توثیق کی گئی ہے۔
اس میں زور دیا گیا ہے کہ پروسیکیوٹرز عدالتوں میں چالان جمع کرانے سے قبل تفتیشی رپورٹس اور چالانوں کا آزادانہ جائزہ لیں اور شواہد کی دستیابی اور قانون کے درست اطلاق سے متعلق اپنی قانونی رائے ریکارڈ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس کی تفتیشی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے 2 ہزار اے ایس آئی بھرتی کرنے کا فیصلہ
سرکلر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مؤثر استغاثہ کا آغاز تفتیشی مرحلے سے ہی ہوتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر پروسیکیوٹرز کو تفتیش کے پہلے دن سے شامل نہ کیا جائے اور انہیں شواہد، مواد اور قانونی پہلوؤں پر مناسب نگرانی کا اختیار نہ دیا جائے تو مقدمات میں مؤثر سزائیں دلوانا مشکل ہو جاتا ہے۔
فوجداری نظامِ انصاف میں باہمی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے تمام تفتیشی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کے فوراً بعد پروسیکیوٹرز سے رابطہ کریں اور پوری تفتیش کے دوران ان سے مسلسل مشاورت جاری رکھیں۔
سرکلر کے مطابق استغاثہ کی ابتدائی شمولیت ان قانونی اور شواہد سے متعلق خامیوں کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے جو بعد ازاں مقدمات کو کمزور بنا دیتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ پولیس کیجانب سے نجی سیکیورٹی گارڈز کوٹریننگ دینے کا فیصلہ، مگر کیوں؟
سرکلر میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ استغاثہ سروس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بے گناہ شخص غلط طور پر مقدمے یا سزا کا شکار نہ ہو، جبکہ مجرم بھی قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔
اسی لیے پروسیکیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض مکمل آزادی، پیشہ ورانہ دیانت داری، غیر جانبداری اور قانون سے وفاداری کے ساتھ انجام دیں۔
خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں، خصوصی افراد، جنسی تشدد اور صنفی بنیاد پر جرائم کے متاثرین سے متعلق مقدمات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ پولیس اسلحہ گمشدگی، 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد کیخلاف مقدمہ درج
پروسیکیوٹرز کو کہا گیا ہے کہ وہ ایسے مقدمات کو ترجیح دیں، متاثرین کے وقار اور حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور گواہوں و متاثرین کو دھمکیوں، ہراسانی یا دوبارہ متاثر ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔
سرکلر میں احتساب کا ایک مضبوط نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل درآمد میں ناکامی کی صورت میں نہ صرف پروسیکیوٹرز بلکہ ایسے تفتیشی افسران کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے جن کے اقدامات استغاثہ کے عمل کو متاثر کریں۔
اس ضمن میں سندھ کرمنل پروسیکیوشن سروس ایکٹ کی دفعہ 9A(2) پروسیکیوٹر جنرل سندھ کو ضروری صورت حال میں محکمانہ کارروائی شروع کرنے یا اس کی سفارش کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: کچے میں سندھ پولیس کا آپریشن جاری، خطرناک ڈاکو نے سرینڈر کردیا
اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر قانون، داخلہ و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ یہ سرکلر قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کرنے اور صوبے میں منصفانہ، شفاف اور مؤثر فوجداری نظامِ انصاف کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پروسیکیوٹر جنرل سندھ بیرسٹر جی شبیر شاہ نے کہا کہ سرکلر پر سندھ بھر میں سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ استغاثہ کی خدمات آزاد، جوابدہ اور قانون و عوامی مفاد کے مطابق انصاف کی فراہمی کے قابل رہیں۔














