پاکستان نے طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ہر بار دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے پر شہریوں کے جانی نقصان کا بیانیہ دہرا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور متعدد دہشتگرد حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
Crime
Last night, the Pakistani military once again violated Afghanistan's airspace and bombed civilian homes in the provinces of Kunar, Khost, and Paktika.
As a result of these attacks, 11 children, one woman, and one elderly man were killed, while 14 other women
2/1— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) June 10, 2026
طالبان حکومت نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم پاکستانی مؤقف کے مطابق خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد حملے مسلسل پاکستان کی جانب کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان گزشتہ 3 ماہ کے دوران غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا اور افغان سرزمین سے ہونے والے متعدد دہشتگرد حملوں کے باوجود کابل سے تعاون اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کی توقع رکھتا رہا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے اور ان کے سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاہم اس کے بجائے انکار، توجہ ہٹانے اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا۔

گزشتہ 3 ماہ کے دوران افغان سرزمین سے دہشتگرد حملوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہا۔ 8 جون 2026 کو حسن خیل پوسٹ پر حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 اہلکار شہید، 8 زخمی جبکہ 7 اہلکاروں کو ٹی ٹی پی نے اغوا کر لیا۔ اسی طرح 9 مئی 2026 کو بنوں میں پولیس چوکی پر خودکش حملے میں بارود سے بھری گاڑی، بھاری ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اپریل 2026 میں بنوں پولیس اسٹیشن پر بھی بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا، جس میں 5 شہری شہید ہوئے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 86 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 260 افراد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:خواتین کے خلاف منظم امتیازی نظام، اقوامِ متحدہ میں طالبان حکومت پر شدید تنقید
پاکستانی مؤقف میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر ایک خودمختار ریاست کب تک سرحد پار دہشتگردی کے نتائج برداشت کرتی رہے؟ کسی بھی ریاست سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ غیر معینہ مدت تک ایسے حملوں کو برداشت کرے جبکہ حملہ آور ہمسایہ ملک کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں جاری رکھیں۔
بیانیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی برادری بھی طالبان حکومت کے زیر انتظام افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ 8 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت کے سوا دیگر ممالک نے دہشتگرد عناصر کی موجودگی پر طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق دہشتگرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کے مطالبات کے باوجود خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ افغان سرزمین سے سرگرم نیٹ ورکس کے حملوں میں پاکستانی جانوں کا ضیاع جاری ہے۔

ذرائع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے تو وہ مستند انٹیلیجنس معلومات اور انتہائی احتیاط کے ساتھ کی جاتی ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دہشتگرد عناصر کو نشانہ بناتے وقت شہریوں کے جانی نقصان سے حتی الامکان بچا جائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوامی سطح پر طالبان حکومت کے مبینہ دہشتگرد سرپرست عناصر اور ان کی عسکری قیادت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ مؤقف کے مطابق اگر سرحد پار سے ہونے والے حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان ان عناصر کے خلاف اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے جو ٹی ٹی پی کو پناہ، مالی معاونت، اسلحہ اور سرپرستی فراہم کرتے ہیں۔ صرف نچلی سطح کے جنگجوؤں کے بجائے ان کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں کو ہدف بنانا زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔














