افغان سرزمین سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری، پاکستان نے طالبان کے الزامات مسترد کر دیے

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ہر بار دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے پر شہریوں کے جانی نقصان کا بیانیہ دہرا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور متعدد دہشتگرد حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

طالبان حکومت نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم پاکستانی مؤقف کے مطابق خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد حملے مسلسل پاکستان کی جانب کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان گزشتہ 3 ماہ کے دوران غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا اور افغان سرزمین سے ہونے والے متعدد دہشتگرد حملوں کے باوجود کابل سے تعاون اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کی توقع رکھتا رہا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے اور ان کے سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاہم اس کے بجائے انکار، توجہ ہٹانے اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا۔

گزشتہ 3 ماہ کے دوران افغان سرزمین سے دہشتگرد حملوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہا۔ 8 جون 2026 کو حسن خیل پوسٹ پر حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 اہلکار شہید، 8 زخمی جبکہ 7 اہلکاروں کو ٹی ٹی پی نے اغوا کر لیا۔ اسی طرح 9 مئی 2026 کو بنوں میں پولیس چوکی پر خودکش حملے میں بارود سے بھری گاڑی، بھاری ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

ذرائع کے مطابق اپریل 2026 میں بنوں پولیس اسٹیشن پر بھی بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا، جس میں 5 شہری شہید ہوئے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 86 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 260 افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:خواتین کے خلاف منظم امتیازی نظام، اقوامِ متحدہ میں طالبان حکومت پر شدید تنقید

پاکستانی مؤقف میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر ایک خودمختار ریاست کب تک سرحد پار دہشتگردی کے نتائج برداشت کرتی رہے؟ کسی بھی ریاست سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ غیر معینہ مدت تک ایسے حملوں کو برداشت کرے جبکہ حملہ آور ہمسایہ ملک کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں جاری رکھیں۔

بیانیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی برادری بھی طالبان حکومت کے زیر انتظام افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ 8 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت کے سوا دیگر ممالک نے دہشتگرد عناصر کی موجودگی پر طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق دہشتگرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کے مطالبات کے باوجود خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ افغان سرزمین سے سرگرم نیٹ ورکس کے حملوں میں پاکستانی جانوں کا ضیاع جاری ہے۔

ذرائع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے تو وہ مستند انٹیلیجنس معلومات اور انتہائی احتیاط کے ساتھ کی جاتی ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دہشتگرد عناصر کو نشانہ بناتے وقت شہریوں کے جانی نقصان سے حتی الامکان بچا جائے۔

مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوامی سطح پر طالبان حکومت کے مبینہ دہشتگرد سرپرست عناصر اور ان کی عسکری قیادت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ مؤقف کے مطابق اگر سرحد پار سے ہونے والے حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان ان عناصر کے خلاف اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے جو ٹی ٹی پی کو پناہ، مالی معاونت، اسلحہ اور سرپرستی فراہم کرتے ہیں۔ صرف نچلی سطح کے جنگجوؤں کے بجائے ان کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں کو ہدف بنانا زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، انڈیکس 170 ہزار پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا

جھنگ: 18 سالہ طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، تشدد اور زیادتی کے شواہد نہ مل سکے

مری ایکسپریس وے پر خوفناک حادثہ، ٹیوٹا ہائی ایس میں آگ لگنے سے 4 افراد جاں بحق، 12 زخمی

جنگ نہیں، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، پاکستان کا امن پیغام

’تم فساد کی جڑ ہو، شکر کرو نوکری میں ہو‘، ضلع عدلیہ بھرتی بے ضابطگی کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟