وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی درخواست مسترد کر دی

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کی بندش اور مسماری سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد فوری طور پر ریسٹورنٹ کھولنے کی استدعا مسترد کردی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کی جانب سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست پر دلائل پیش کیے گئے۔

وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کی، تاہم عدالت نے فوری طور پر ریسٹورنٹ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: مونال کی جگہ اسلام آباد ویو پوائنٹ اب تک کیوں نہیں بنایا گیا؟

سماعت کے دوران عدالت نے سپریم کورٹ کے سابق فیصلے پر متعدد سوالات اٹھائے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق تو ہیں لیکن انسانوں کے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مونال کی لیز تجوید کا کیس سول کورٹ میں زیرِ التواء تھا جبکہ کچھ ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت تھیں۔

مزید پڑھیں: مونال ریسٹورینٹ کیس: سپریم کورٹ کے خلاف فیصلہ دینے والا جج معطل

عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے کے ذریعے تمام عدالتوں میں زیر التوا کیسز نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ قانونی نکات سپریم کورٹ میں مؤثر انداز میں نہیں اٹھائے گئے۔

سماعت کے دوران ججز نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا۔

مزید پڑھیں: مونال ریسٹورینٹ کیس: سپریم کورٹ کے خلاف فیصلہ دینے والا جج معطل

جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں گونگے ہوگئے تھے۔

وکیل احسن بھون نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ کے سامنے کھڑے تھے، جس پر جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہوتا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے اور تمام فریقین اس پر متفق ہیں کہ معاملہ سول کورٹ میں چلنے دیا جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: مونال ریسٹورنٹ کے مالک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری، ڈائنو ویلی کا ریکارڈ طلب

تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکلا کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ محض اتفاق رائے سے کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید کہا کہ عدالتی حکم واپس لینے کے لیے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا اور عدالت کسی پر سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ مسلط نہیں کرے گی۔

بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی، سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر فوری روکنے کی استدعا مسترد

گرین بسوں میں مفت سفر ختم کیا جائے، شہری کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کرایہ 50 روپے مقرر کرنے کا حیران کن مطالبہ

مظفرآباد میں ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا کی نمازِ جنازہ ادا، فضا سوگوار، ہر آنکھ اشکبار

اقوامِ متحدہ کا مشن طالبان کے بیانیے کا ہمنوا، دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نظرانداز

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطے کا انکشاف

ویڈیو

صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری، معاملہ انتہائی پیچیدہ مگر حکومت متحرک ہے، ترجمان دفتر خارجہ

بجٹ 27-2026 سے خواتین کی کیا توقعات ہیں؟

پیپلز پارٹی سے صرف ایک نشست کم، گلگت بلتستان میں حکومت ن لیگ بنائے گی، خرم دستگیر

کالم / تجزیہ

اسرائیل کی ملٹری ڈاکٹرائن

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا