وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کی بندش اور مسماری سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد فوری طور پر ریسٹورنٹ کھولنے کی استدعا مسترد کردی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کی جانب سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست پر دلائل پیش کیے گئے۔
وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کی، تاہم عدالت نے فوری طور پر ریسٹورنٹ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: مونال کی جگہ اسلام آباد ویو پوائنٹ اب تک کیوں نہیں بنایا گیا؟
سماعت کے دوران عدالت نے سپریم کورٹ کے سابق فیصلے پر متعدد سوالات اٹھائے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق تو ہیں لیکن انسانوں کے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مونال کی لیز تجوید کا کیس سول کورٹ میں زیرِ التواء تھا جبکہ کچھ ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت تھیں۔
حسن اتفاق دیکھیے کہ 11 جون 2024 کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مون ریسٹورنٹ کو 3 ماہ میں بند کرنے کا حکم دیا، آج 11 جون 2026 کو اس فیصلے کو نا صرف غلط قرار دیا گیا، بلکہ مونال ریسٹورنٹ کی دوبارہ تعمیر کی اجازت کا عندیہ بھی دے دیا گیا! https://t.co/JwADsLfCif
— Maryam Nawaz Khan (@maryamnawazkhan) June 11, 2026
مزید پڑھیں: مونال ریسٹورینٹ کیس: سپریم کورٹ کے خلاف فیصلہ دینے والا جج معطل
عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے کے ذریعے تمام عدالتوں میں زیر التوا کیسز نمٹانے کا حکم دیا تھا۔
مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ قانونی نکات سپریم کورٹ میں مؤثر انداز میں نہیں اٹھائے گئے۔
سماعت کے دوران ججز نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
مزید پڑھیں: مونال ریسٹورینٹ کیس: سپریم کورٹ کے خلاف فیصلہ دینے والا جج معطل
جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں گونگے ہوگئے تھے۔
وکیل احسن بھون نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ کے سامنے کھڑے تھے، جس پر جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہوتا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے اور تمام فریقین اس پر متفق ہیں کہ معاملہ سول کورٹ میں چلنے دیا جائے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: مونال ریسٹورنٹ کے مالک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری، ڈائنو ویلی کا ریکارڈ طلب
تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکلا کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ محض اتفاق رائے سے کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ عدالتی حکم واپس لینے کے لیے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا اور عدالت کسی پر سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ مسلط نہیں کرے گی۔
بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی، سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔














