سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی ’ریاض ایئر‘ نے بدھ کے روز اپنی پہلی باقاعدہ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر پرواز کا آغاز کر دیا، جو ایئرلائن کے تجارتی آپریشنز میں ایک اہم سنگِ میل اور مملکت کے عالمی ہوابازی مرکز بننے کے وژن کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پرواز RX401 ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی اور مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 7 بجے لندن ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچ گئی۔
مزید پڑھیں: ویژن 2030 کے تحت بڑا سنگِ میل : ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول، واٹر کینن سے سلامی
یہ پرواز ریاض ایئر کے نئے بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں کی باقاعدہ آپریشنل سروس کا آغاز ہے۔ ایئرلائن کو گزشتہ ہفتے اپنے پہلے دو جدید طیارے موصول ہوئے تھے جبکہ تیسرا طیارہ 7 جون کو بیڑے میں شامل کیا گیا۔ مزید طیاروں کی فراہمی آئندہ مہینوں میں متوقع ہے۔
Riyadh Air has officially launched its first commercial passenger flights after accelerating the delivery of its Boeing 787-9 Dreamliners.
Just days after receiving its third Dreamliner, the new Saudi Arabian carrier brought forward its inaugural service from July 1 to June 10,… pic.twitter.com/f7MQFQdaAP
— Turbine Traveller (@Turbinetraveler) June 10, 2026
ریاض ایئر اس سے قبل اکتوبر سے لندن ہیتھرو کے لیے روزانہ پروازیں اپنے ریزرو طیارے ’جمیلہ‘ کے ذریعے چلا رہی تھی۔ یہ سلسلہ پاتھ وے ٹو پرفیکٹ پروگرام کے تحت شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد آپریشنز، مسافروں کے تجربے اور خدمات کا جائزہ لینا اور مکمل تجارتی سروس کے لیے تیاری کرنا تھا۔
بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر میں 4 درجوں پر مشتمل جدید کیبن ترتیب دی گئی ہے، جس میں بزنس ایلیٹ، بزنس کلاس، پریمیم اکانومی اور اکانومی کلاس شامل ہیں۔ طیارے میں جدید ترین ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم، بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور تیز رفتار ڈیجیٹل سروسز بھی فراہم کی گئی ہیں، جو ریاض ایئر کے ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری ماڈل کی عکاسی کرتی ہیں۔
ریاض ایئر 2023 میں سعودی عرب کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ کی ملکیت میں قائم کی گئی تھی۔ ایئرلائن سعودی وژن 2030 کے تحت فضائی رابطوں کے فروغ، سیاحت میں اضافے اور معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ کمپنی کو اپریل 2025 میں فضائی آپریٹر سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔
ایئرلائن کا ہدف 2030 تک دنیا بھر کے 100 سے زائد مقامات کو ریاض سے منسلک کرنا ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام تک قریباً 20 بین الاقوامی منزلوں تک پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ریاض ایئر نے اب تک 72 بوئنگ ڈریم لائنر طیاروں کا آرڈر دیا ہے جبکہ طویل المدتی منصوبے کے تحت اپنے فضائی بیڑے کو 180 سے زائد طیاروں تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
Three years after the carrier’s launch, Inaugural flight RX401, Riyadh (RUH)- London (LHR) of Riyadh Air B787-9 aircraft, registration HZ-RXAA, touched down at London Heathrow Airport.
Saudi Arabia launched its second national carrier Riyadh Air after more than a year of delays… pic.twitter.com/WPAkpgiZ3W
— FL360aero (@fl360aero) June 10, 2026
مزید پڑھیں:پی آئی اے کی ریاض ایئر کے ساتھ کارگو ڈیل، قومی ایئرلائن کو کیا فائدہ ہوگا؟
سعودی حکام کے مطابق ریاض ایئر مملکت کے ہوابازی کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا محور بنے گی۔ اندازوں کے مطابق یہ ایئرلائن غیر تیل معیشت میں قریباً 20 ارب ڈالر کا اضافہ کرے گی اور براہِ راست و بالواسطہ طور پر 2 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔
لندن ہیتھرو روٹ کو ریاض ایئر کے بین الاقوامی نیٹ ورک کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کمپنی کا مقصد ریاض کو ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک اہم فضائی گیٹ وے کے طور پر منوانا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق یہ منصوبہ مملکت کو عالمی فضائی سفر اور ٹرانزٹ کے بڑے مراکز کی صف میں شامل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔














