بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مدھوری ڈکشٹ نے کہا ہے کہ ان کی نئی فلم ’ماں بہن‘ مردوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے پورے معاشرے کو اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لانے کا پیغام دیتی ہے۔
ایک انٹرویو میں مدھوری ڈکشٹ نے کہا کہ فلم یہ دکھاتی ہے کہ صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی اکثر دوسروں پر تنقید اور فیصلے صادر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق’یہ فلم کسی ایک جنس کے خلاف نہیں بلکہ معاشرے کے مجموعی رویوں پر تبصرہ ہے۔ معاشرے کو بطورِ مجموعی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ‘
یہ بھی پڑھیں:بالی ووڈ کی چمک دمک کے پیچھے چھپی تاریک دنیا، مادھوری ڈکشٹ نے بڑا راز کھول دیا
ہدایت کار سریش تروینی کی اس کامیڈی ڈرامہ فلم میں ایک ماں اور اس کی 2 بیٹیوں کی کہانی پیش کی گئی ہے، جو اپنی زندگی کے مختلف فیصلوں پر مسلسل تنقید اور سماجی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔
فلم طنز و مزاح کے ذریعے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، سماجی تعصبات اور ان کی آزادی جیسے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔
مدھوری ڈکشٹ نے فلم میں اپنے کردار کے بغیر آستین والے بلاؤز اور اپنی 1993 کی مشہور فلم ’خل نائک‘ کے متنازع گانے ’چولی کے پیچھے کیا ہے‘ کے درمیان قائم کی جانے والی مماثلتوں پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ناظرین فلم کی باریکیوں اور اس کے گہرے پیغام کو سمجھ رہے ہیں، جو ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔
مزید پڑھیں:’سب جھوٹ تھا اور ہمیں دھوکا دیا گیا‘، مادھوری ڈکشت کے شو نے لوگوں کو مایوس کیوں کردیا؟
اپنی طویل اور کامیاب فنی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مدھوری ڈکشٹ نے مداحوں کی محبت اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے چاہنے والے انہیں صرف ایک فلمی ستارہ نہیں بلکہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں، اور یہی ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔
5 جون کو ریلیز ہونے والی ’ماں بہن‘ کو خواتین کے حقوق، سماجی منافقت اور خودمختاری جیسے موضوعات کو مزاحیہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرنے پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ مدھوری ڈکشٹ کی اداکاری کو بھی ناقدین اور ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔














