وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے 2 پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے بچانا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
سال 2022 اور 2025 کے الاؤنسز بنیادی تنخواہ کا حصہ بن گئے
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سال 2022 اور سال 2025 کے ایڈہاک الاؤنسز کو اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عوام اور انڈسٹری پر بوجھ کم کیا جائے، بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس آج طلب
ان الاؤنسز سال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے اسی طرح سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس بھی بنیادی تنخواہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ’اس اقدام سے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں ملنے والی دیگر مراعات، پنشن اور الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔‘
کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد تک کا بھاری اضافہ
ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کے علاوہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے ’کنوینس الاؤنس‘ (سفری الاؤنس) میں بھی 50 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026: تنخواہ پر ریلیف، اب آپ کا کتنا ٹیکس کٹے گا، جانیے اس خبر میں!
میڈیا رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور کرایوں میں اضافے کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو روزمرہ کے سفری اخراجات کے حوالے سے مزید مالی سہولت میسر آ سکے۔
مہنگائی کے خلاف حکومتی ریلیف کا بڑا قدم
واضح رہے کہ یہ تمام اقدامات سرکاری ملازمین کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ بنیادی تنخواہ بڑھنے سے ملازمین کے ہاؤس رینٹ اور دیگر مراعات کا حجم بھی خودبخود بڑھ جائے گا، جو موجودہ معاشی صورتحال میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک بڑا اور خوش آئند ریلیف ہے۔














