امریکا ایران مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے دنیا کو بڑی مشکل سے بچا لیا

اتوار 14 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایک اہم سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ روز ایکس پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے امید ظاہر کی گئی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آنے والے 24 گھنٹوں کے اندر کسی مثبت نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم ہوتے ہیں اور مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اور علاقائی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید پڑھیں: آئندہ 24 گھنٹوں میں امریکا ایران معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ توقع ہے 24 گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی، مذاکرات کے لیے تعاون کرنے پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب اتوار کو ہوگی جس کے بارے میں پاکستانی اور سعودی حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ اہم پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام میں مدد دے گی۔

تاہم دوسری طرف ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اب تک امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ پاکستان کی کتنی بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہوگا؟ کیا یہ پیشرفت عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور سفارتی طاقت کا ثبوت بنے گی، اور پاکستان کی سفارتکاری کا مستقبل کیا ہوگا؟ وی نیوز نے ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

امریکا ایران معاہدے کی راہ ہموار ہونا پاکستان کی کامیابی ہے، مسعود خالد

سابق سفارتکار مسعود خالد نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز تک لانے میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔

ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہونا بھی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کا عالمی برادری نے بھی اعتراف کیا ہے، اور یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

مسعود خالد نے کہاکہ اس سفارتی کردار کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے، جو مستقبل میں خارجہ پالیسی کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔

ان کے مطابق پاکستان کی پوزیشن اب علاقائی اور عالمی معاملات میں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب مختلف عالمی و علاقائی مسائل پر اس کے مؤقف کو زیادہ توجہ ملے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کا یہ کردار خطے کے سیکیورٹی ڈھانچے میں اس کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اقتصادی تعاون کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو مزید فروغ دینا چاہیے، کیونکہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان اپنی اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کر سکتا ہے، اور اس مثبت سفارتی کردار کے ثمرات معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

پاکستان نے امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، جلیل عباس جیلانی

سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہاکہ یہ پہلا مرحلہ ہے جس میں اب تک متعدد اہم سنگِ میل حاصل کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے امن عمل کے دوران رابطہ کاری کے دروازے کھلے رکھنے میں بنیادی اور سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان ان تمام منفی آرا اور مخالفین سے متاثر نہیں ہوا جو اس عمل کے خلاف تھے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے اس تعمیری اور مثبت کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، جس سے اس کی سفارتی حیثیت ایک ذمہ دار مڈل پاور کے طور پر مزید مستحکم ہوئی ہے۔ اس تناظر میں جاری امن کوششوں کے نتیجے میں مختلف سطحوں پر مثبت پیشرفت متوقع ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پیشرفت کے تحت خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے ساتھ معاشی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح امریکا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر تعاون کا تسلسل برقرار رہے گا، جبکہ پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک و اقتصادی تعلقات مزید مضبوطی اور ترقی کی طرف گامزن رہیں گے۔

جلیل عباس جیلانی کے مطابق مزید برآں، جنوبی ایشیا کے وہ ممالک جو بھارتی رویے سے متاثر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ بھارت بھی ممکنہ طور پر اپنی پاکستان پالیسی پر نظرِ ثانی کرے گا، خاص طور پر مئی 2025 کے تنازع کے بعد پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار اور حالیہ مفاہمتی یادداشت کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اس کے کردار کے تناظر میں، جس پر جلد دستخط متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ پیشرفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں امن، تعاون اور سفارتی توازن کے فروغ میں ایک مؤثر اور نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکا ایران معاہدہ طے پا جانا پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی، فیضان ریاض

انٹرنیشنل پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی سے ایک امن معاہدہ 24 گھنٹوں کے اندر طے پا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم اسٹریٹجک کامیابی ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ اس صورتحال میں اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد کرائسس مینیجر اور متحارب فریقوں کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر دیکھا جائے گا۔

ان کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی اس خارجہ پالیسی کی توثیق کرے گی جو جیو اسٹریٹجک مقابلہ آرائی کے بجائے جیو اکنامک کنیکٹیویٹی پر زور دیتی ہے۔ اس سے پاکستان کو واشنگٹن، تہران اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی میں نیا سفارتی اثر و رسوخ حاصل ہوگا، کیونکہ پاکستان اپنے غیر جانبدار اور ثالثی کردار کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر اس کامیابی کے نتیجے میں پاکستان کی شبیہ ایک سیکیورٹی مرکوز ریاست سے تبدیل ہو کر ایک ذمہ دار عالمی فریق کے طور پر ابھرے گی جو تنازعات میں کمی اور امن کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس سے نہ صرف سفارتی خیرسگالی میں اضافہ ہوگا بلکہ ممکنہ طور پر سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھیں گے اور کثیر الجہتی فورمز پر پاکستان کی آواز زیادہ مؤثر ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردی

تاہم، فیضان ریاض کے مطابق اس کے طویل المدتی فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھے، اپنی ثالثی کی حاصل کردہ سفارتی ساکھ کو تجارت اور توانائی کے راہداری منصوبوں میں تبدیل کرے۔

امریکا ایران تناؤ میں کمی آئی تو خطے میں استحکام کے امکانات بڑھیں گے، ماہرین

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی آتی ہے تو نہ صرف خطے میں استحکام کے امکانات بڑھیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’جوہری تخفیف کا معاملہ ختم ہو چکا ہے‘،شمالی کوریا کا سخت مؤقف

بھارت: نرس کی مبینہ غفلت کے باعث غلط انجیکشن لگنے سے مریض جان کی بازی ہار گیا

سعودی عرب: روشنیوں اور فنِ تعمیر کا امتزاج، کنگ عبدالعزیز اسکوائر نے شہر کی شناخت بدل دی

عالمی کشیدگی کے باوجود سونا کیوں سستا ہو رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

جنگ بندی معاہدہ آج طے پانے کا امکان، ٹرمپ پُرامید، تہران نے فوری دستخط کی تردید کردی

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں