امریکا کی جانب سے چینی روبوٹس اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر پابندی، چین کا جوابی کارروائی کا انتباہ

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چینی ساختہ نئے روبوٹس اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد کیا تو بیجنگ سخت جوابی اقدامات کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں کا کارنامہ، کوانٹم کمپیوٹنگ کی سحر انگیز دریافت، روشنی 3مستحکم حالتوں میں محفوظ

چین کی وزارتِ تجارت نے جمعرات کو جاری بیان میں ان پابندیوں کو امتیازی، تحفظ پسندانہ اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ پابندیاں فوری طور پر واپس لے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا قومی سلامتی کا جواز بنا کر غیرمنصفانہ انداز میں چینی کمپنیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر امریکا یکطرفہ اقدامات جاری رکھتا ہے تو چین دوٹوک جوابی کارروائی کرے گا اور اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) نے رواں ہفتے نئے ضوابط کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد امریکا کے تیزی سے فروغ پاتے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کا تحفظ، اہم سپلائی چینز کو مضبوط بنانا اور چینی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا ہے۔

نئے ضوابط کے تحت جدید چینی روبوٹس، جن میں ہیومنائیڈ اور چار ٹانگوں والے روبوٹک نظام شامل ہیں، کے علاوہ بعض پاور اِنورٹرز کی درآمد بھی ممنوع ہوگی۔ یہ اِنورٹرز قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں، ڈیٹا سینٹرز اور گھریلو برقی نظام میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: چین میں منعقدہ میراتھن میں روبوٹس نے انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعات سائبر سیکیورٹی کے خطرات پیدا کر سکتی ہیں اور اہم انفراسٹرکچر کو سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث غیر محفوظ بنا سکتی ہیں۔

چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا قومی سلامتی کی تشریح کو بلاجواز وسیع کر کے منڈی میں بگاڑ اور غیرمنصفانہ تجارتی پالیسیوں کو جواز فراہم کر رہا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس معاملے پر چین کے بارہا سفارتی احتجاج کو بھی نظر انداز کیا ہے۔

یہ پابندیاں چین کی تکنیکی ترقی کو محدود کرنے کے لیے امریکا کی حالیہ کارروائیوں کا تسلسل ہیں۔ اس سے قبل بھی چینی ڈرونز، جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور دیگر ہائی ٹیک مصنوعات پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جبکہ امریکا چینی اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر مزید سخت ضوابط پر بھی غور کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی پر بڑھتا ہوا تنازع رواں سال متوقع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی مجوزہ سربراہی ملاقات سے قبل مزید دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے چین کی روبوٹکس صنعت پر فوری طور پر بڑا اثر پڑنے کا امکان کم ہے کیونکہ چین نے حکومتی سرپرستی میں روبوٹکس اور آٹومیشن کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔

مزید پڑھیں: ’آدھا انسان آدھا روبوٹ‘، آخر معاملہ کیا ہے؟

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق چینی کمپنیوں نے نہ صرف اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے بلکہ لاگت میں بھی کمی لائی ہے جس سے انہیں عالمی منڈی میں مسابقتی برتری حاصل ہوئی ہے۔

ٹیکنالوجی ریسرچ فرم اومڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 15 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس فروخت کیے گئے جن میں چینی کمپنیوں یونی ٹری اور اے جی آئی بوٹ نے پانچ، پانچ ہزار سے زائد یونٹس فراہم کیے، جبکہ امریکی کمپنیوں ٹیسلا اور فگر اے آئی کی فروخت صرف چند سو روبوٹس تک محدود رہی۔

ماہرین کے مطابق امریکی پاور اِنورٹر مارکیٹ پر بھی ان پابندیوں کے فوری اثرات محدود رہیں گے کیونکہ یہ ضوابط بنیادی طور پر نئی درآمدات پر لاگو ہوں گے اور پہلے سے منظور شدہ یا استعمال میں موجود آلات اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی اور روحانیت کا امتزاج، روبوٹ راہب کا تن دہی کے ساتھ بدھ مت تعلیمات پھیلانے کا عزم

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے بھی امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ پسندانہ پالیسیاں نہ تو امریکا کی مسابقت بڑھا سکتی ہیں اور نہ ہی امریکی کاروبار اور صارفین کے مفاد میں ہیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اداکارہ عروبہ مرزا کا ثاقب چدھڑ پر ہراسانی کا الزام، مبینہ پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کردیے

بھارتی بیٹر اجنکیا رہانے کا 20 سالہ شاندار سفر اختتام پذیر، انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

دریا، جھیل یا آبشار میں نہانے جا رہے ہیں؟ پہلے یہ خطرناک حقائق ضرور جان لیں

مریخ پر 14 سالہ تحقیق کے بعد شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت

’میری وفاداری عہدے سے نہیں پاکستان سے ہے‘، قومی ہاکی ٹیم کی کپتانی سے ہٹائے جانے پر عماد بٹ کا ردعمل

ویڈیو

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین