اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق بریفنگ کے دوران روس نے ایک بار پھر افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں بالخصوص ٹی ٹی پی اور داعش خراسان (ISIS-K) سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روس کی مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگرد سرگرمیوں کے پس منظر میں پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو بھی علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ روسی نمائندہ کے مطابق افغانستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر خطے کے امن و استحکام کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
#Evstigneeva: Russia provides ongoing assistance to the Afghan people.
👉We are prepared to expand our partnerships with #Afghanistan across all areas, including regional security issues.
🔗Read in full: https://t.co/AO2uGSSPw8 pic.twitter.com/76VPhGbGwR
— Russia at the United Nations (@RussiaUN) June 8, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے حالیہ ریمارکس پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہ علاقائی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات کا ذکر اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کے پاکستان پر الزامات پراپیگنڈا اور داخلی سیکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار
ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے خدشات خطے کے ممالک کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں روس کے بیان نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور وہاں موجود شدت پسند دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے جاری عالمی بحث کو مزید تقویت دی ہے۔














